حیاتِ خالد — Page 341
حیات خالد 340 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام لکھا دیں۔کہنے لگے کس موضوع پر میں نے کہا کہ اسلامی جنگوں پر۔کہنے لگے کہ اگر وہاں کوئی اور مضمون لکھنے کیلئے کہا گیا تب کیا کرو گے میں نے کہا ابا جان آپ لکھا دیں۔میں جیسے تیسے کر کے سنبھال لوں گا۔تب آپ نے چار صفحوں کا مضمون لکھوا دیا۔وہی میں نے یاد کر لیا اور کچھ اور مضامین بھی دیکھ لئے۔پرچہ کے روز میں نے اس مضمون کو تمہید اور انتقام کے ساتھ ایسے سمو دیا کہ مجھے خود بھی لکھ کر دوبارہ پڑھنے پر بہت لطف آیا۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ میں آپ کی دعاؤں کے طفیل ایسا کر سکا اور اعلیٰ نمبروں پر سب مضامین میں کامیاب ہوا اور یونیورسٹی میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔الحمد للہ محترم ثاقب زیروی صاحب مرحوم بانی و ایڈیٹر ہفت روزہ لاہور نے حضرت مولانا کی وفات پر جو تعزیتی نوٹ لکھا اس میں رقمطراز ہیں :- کئی سال تک بلا د عربیہ میں اعلائے کلمتہ الحق کی سعادت حاصل ہوئی۔عربی۔۔۔۔اس روانی سے بولتے کہ اہل زبان بھی سن کر عش عش کر اٹھتے“۔(ہفتہ وار لا ہور لاہور ۶ جون ۱۹۷۷ء صفحہ ۴ ۱۴) محترم عطاء الحجيب راشد صاحب امام بيت الفضل لندن ابن حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب تحریر کرتے ہیں :- حضرت ابا جان مرحوم و مغفور کو اللہ تعالی نے عربی زبان کا خوب ملکہ عطا فر مایا تھا میں نے آپ کو بعض موقعوں پر مختصر خطاب کرتے اور بعض عرب دوستوں سے عربی میں گفتگو کرتے سنا ہے۔بہت روانی اور بے تکلفی سے گفتگو فرماتے تھے۔لندن میں قیام کے دوران فلسطین، شام، مصر اور اردن سے آنے والے پرانے عرب احمدیوں نے ، دیگر امور کے علاوہ ، حضرت ابا جان کی عربی دانی اور زوردار تقاریر کا بہت کثرت سے مجھ سے ذکر فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو غیر معمولی استعداد عطا فرمائی تھی اس سلسلہ میں ایک دلچسپ واقعہ میں نے بارہا آپ کی زبانی سنا۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ ایک بار لاہور جانے کا اتفاق ہوا تو معلوم ہوا کہ وہاں ایک بڑے ہال میں اس موضوع پر پبلک جلسہ ہو رہا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی حکومت ہے اس ملک میں عربی زبان کو فروغ دینا چاہئے۔میں نے چند دوستوں کو ساتھ لیا اور فوراً اس جلسہ میں جا شامل ہوا۔جلسہ کی کارروائی سن کر مجھے سخت تعجب ہوا کہ بات تو عربی زبان کے فروغ کی ہو رہی ہے لیکن عرب مہمانوں کے سوا سب پاکستانی مقررین تقاریر اُردو میں کر رہے ہیں۔خیر میں کارروائی سنتا رہا۔بہت زور دار تقاریر ہوئیں۔تقاریر کے آخر میں صاحب صدر کے خطاب سے قبل یہ اعلان ہوا کہ اگر سامعین میں سے کوئی شخص کوئی بات کرنا چاہتا ہے تو موقع دیا