حیاتِ خالد — Page 340
حیات خالد 339 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام مکرم چوہدری عبد الکریم خان صاحب کا ٹھگڑھی شاہد مرحوم مربی سلسلہ نے اپنے مضمون مطبوعہ الفضل میں لکھا: - زبان عربی پر بڑا عبور رکھتے تھے۔عربی بولنے میں بڑی مہارت حاصل تھی۔اس سلسلہ میں ایک بڑا دلچسپ اور شاندار واقعہ ہے۔ہم نے ۱۹۵۰ء میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان دینا تھا۔مولوی فاضل کے امتحان کا انشاء ( عربی میں مضمون نویسی ) کا پرچہ ان دنوں مشکل ترین ہوتا تھا کیونکہ اس پر چہ میں صرف ایک ہی سوال ہوتا تھا یعنی صرف عربی میں کسی ایک عنوان پر مضمون لکھنا ہوتا تھا۔امتحانی پرچہ میں اگر سوالات ایک سے زائد ہوں تو طالب علم کئی سوالوں کو حل کر کے تھوڑے تھوڑے نمبر لے کر مجموعی طور پر پاس ہونا قدرے آسان سمجھتا ہے لیکن جب پر چہ میں سوال بھی ایک ہی ہو تو بڑی دقت کا سامنا ہوتا ہے۔انشاء عربی میں پاس ہونا بھی لازمی تھا اور سوال بھی ایک ہی ہوتا تھا۔سو اس موقع پر امتحان مولوی فاضل سے قبل تیاری کے دوران طلبہ کی خواہش پر مرحوم و مغفور نے اپنے گھر پر اپنے شاگردوں کو عربی میں چند مضامین لکھوائے ہم سب اپنے شفیق استاد کے پاس روزانہ جاتے۔آپ بڑے قادر الکلام تھے۔فی البدیہ عربی بولتے جاتے تھے اور ہم لکھتے جاتے۔ہم حیران ہوتے تھے کہ مسلسل بغیر کسی رکاوٹ کے بولتے چلے جارہے ہیں۔فَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ الله العظيم الله تعالیٰ کی شان دیکھیں کہ جو مضامین محترم استاذی مرحوم نے لکھوائے تھے انہیں میں سے انشاء عربی ( یعنی مضمون نویسی) کے پرچہ میں ایک عنوان آ گیا یعنی "الحجاب الاسلامی" (اسلامی پرده) یہ مضمون بھی محترم مولانا صاحب نے ہمیں لکھوایا ہوا تھا اور ہم نے اچھی طرح سمجھ کر یاد کیا ہوا تھا چنانچہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے ہم نے وہ مضمون عمدگی سے لکھ دیا اور اس طرح ہم کامیاب ہو گئے۔یہ واقعہ استاذی مرحوم کی علمی بصیرت، مومنانہ نور فراست اور تعلق باللہ کا ایک ناقابل فراموش واضح ثبوت ہے۔فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ ( الفضل ۵رجون ۱۹۷۹ء صفحه ۵ ) مكرم عطاء الرحمن صاحب طا ہر تحریر فرماتے ہیں :- قیام پاکستان کے بعد میں نے مولوی فاضل کا امتحان دیا تھا اور میرا سینٹر پشاور تھا۔انشاء کا آخری پر چہ تھا جس کی مجھے بہت فکر تھی کہ محترم ابا جان قادیان سے پشاور پہنچ گئے۔آتے ہی پوچھا پرچے کیسے ہوئے ہیں میں نے بتایا کہ اب تک تو بہت اچھے ہوئے ہیں مگر اب انشاء کا پرچہ ہے جو کہ بہت مشکل لگتا ہے اور ڈر بھی لگتا ہے تو فرمانے لگے پھر کیا خیال ہے۔میں نے کہا کہ ابا جان تین چار صفحے کا ایک مضمون