حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 339 of 923

حیاتِ خالد — Page 339

حیات خالد 338 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام مکرم و محترم عبدالوہاب بن آدم صاحب شاہد مربی سلسلہ امیر و مشنری انچارج جماعت احمد یہ گھانا لکھتے ہیں :- غالبا ۱۹۵۸ء کی بات ہے کہ مصر کے ایک عربی اخبار الاحرام کے ایڈیٹر صاحب ربوہ تشریف لائے۔اس موقعہ پر ان کے اعزاز میں جو پارٹی دی گئی اس میں محترم مولانا صاحب مرحوم نے انتہائی فصیح و بلیغ عربی میں تقریر فرمائی۔تقریر ایسی شاندار اور عربی زبان ایسی اعلی تھی کہ اپنی جو ابی تقریر میں محترم ایڈیٹر صاحب الاحرام نے فرمایا " شاذ ہی ایسے مجھی ملتے ہیں جو اتنی فصیح و بلیغ عربی بول سکتے ہوں۔محترم صوفی محمد الحق صاحب سابق مربی سلسلہ ممالک افریقہ لکھتے ہیں :- آپ کی عربی زبان نہایت شستہ ، سلیس اور فصیح و بلیغ تھی۔در حقیقت مجھے عربی زبان میں زیادہ شلف صرف انہی کی وجہ سے پیدا ہوا اور اس کا مجھے افریقہ میں بہت ہی فائدہ ہوا۔مغربی افریقہ میں جہاں لبنانی بڑی کثرت سے تھے وہ لوگ کتابی عربی بولنے کے باعث میرا بے حد احترام کرتے تھے۔مغربی افریقہ میں ہی ایک لبنانی مکرم سید حسن محمد صاحب ابراہیم حسینی جو احمد کی ہو چکے تھے کے ہاں مجھے مولانا ابوالعطاء صاحب مرحوم کے مصنفہ رسالہ البشارۃ الاسلامیہ الاحمدیہ کے بہت سے نسخے ملے جن کو پڑھ کر نہ صرف یہ کہ مجھے بہت ہی لطف آیا بلکہ ان کے ذریعے سے میرے علم میں بھی گراں قدر اضافہ ہوا۔فَجَزَاهُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ محترم مولانا محمد صدیق صاحب گورداسپوری سابق امیر جماعت امریکہ حال نائب وکیل التبشیر لکھتے ہیں :- عربی زبان پر تو آپ کو خدا تعالی کے فضل سے ایسا عبور حاصل تھا کہ جب بولتے تو ایسا محسوس ہوتا کہ کوئی اہل زبان فصیح و بلیغ عربی میں کلام کر رہا ہے۔بغیر کسی تیاری کے ہر موضوع پر بے تکلفانہ بولنے کی خاص قدرت حاصل تھی۔مجھے یاد ہے انشاء کا مضمون کافی مشکل تھا آپ ہمیں یہ مضمون پڑھاتے بلکہ لکھواتے تھے اور ایسے آسان طریق سے عربی میں مضامین لکھواتے کہ طلباء کیلئے کوئی مشکل نہ رہتی۔۱۹۴۸ء میں فلسطین کا مسئلہ مجلس اقوام متحدہ میں پیش تھا۔اخبارات میں بھی اس کا خوب چرچا تھا۔چنانچہ اس موضوع پر آپ نے ہمیں عربی میں ایک نہایت مبسوط اور پر مغز مضمون لکھوایا تا کہ اگر مولوی فاضل کے امتحان میں یہ مضمون آ جائے تو طلباء آسانی سے اس پر کچھ لکھ سکیں۔آپ کا طریق تھا کہ کلاس میں ٹہلتے جاتے اور مضمون لکھواتے جاتے تھے۔