حیاتِ خالد — Page 32
حیات خالد 34 ابتدائی خاندانی حالات تربیت بھی بجالا رہے ہیں۔دونوں بہنیں عزیزہ ہاجرہ بیگم اہلیہ عزیزم محترم محمد حنیف صاحب ریٹائر ڈ منیجر ڈیری فارم اور عزیزه ساره بیگم اہلیہ عزیزم محترم صوبیدار صوفی رحیم بخش صاحب میٹرک پاس ہیں۔انہیں دینی تعلیم سے بھی خاصہ حصہ حاصل ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرے سارے بھائی اور بہنیں صاحب اولاد واحفاد ہیں۔میرے والدین کا چمن سرسبز و شاداب ہے۔وَلِلَّهِ الْحَمْدُ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔(الفرقان ربوہ اپریل ۱۹۷۵ء صفحه ۴۴ - ۴۵) حضرت مولانا کے بھائی بہنوں میں سے اس وقت صرف مکرم عبدالمنان صاحب زندہ ہیں۔آپ کے بھائی مکرم حافظ عبد الغفور صاحب اور مولوی عنایت اللہ صاحب نیز دونوں بہنیں محترمہ ہاجرہ بیگم صاحبہ اور محترمہ سارہ بیگم صاحبہ وفات پا چکی ہیں۔مولوی عنایت اللہ صاحب جاکے چیمہ ضلع سیالکوٹ میں دفن ہیں جبکہ مکرم حافظ عبد الغفور صاحب اور دونوں بہنیں بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔کریام جماعت کے روح رواں والد صاحب کے حالات کا ایک اجمالی تذکرہ حضرت حاجی غلام احمد صاحب نے حضرت مولانا ابو العطاء صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے والد حضرت منشی امام الدین صاحب کی وفات پر ایک جامع نوٹ لکھا جس میں فرمایا : - امنشی صاحب موصوف کر یہا ضلع جالندھر کے رہنے والے تھے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔۱۹۰۴ ء یا ۱۹۰۵ء میں بیعت کی تھی۔( یہ دستی بیعت کی تاریخ ہے اس سے قبل آپ نے ۱۹۰۲ء میں بذریعہ خط بیعت کا شرف حاصل کر لیا تھا۔( احمدیت کے قبول کرنے پر والد اور اہل گاؤں کی طرف سے انہیں سخت تکالیف دی گئیں اور ہر طرح سے تنگ کیا گیا۔مگر اللہ تعالی کے فضل سے وہ بالکل ثابت قدم رہے۔منشی صاحب ایک مخلص آدمی تھے۔سادگی سے مومنانہ زندگی بسر کرتے تھے۔تبلیغ کا شوق تھا۔جب کبھی تبلیغ کیلئے آپ کو بلایا جاتا فورا حاضر ہو جاتے۔حالانکہ آپ کا ڈاک خانہ اور دوکانداری کا کام تھا۔آپ ہمیشہ بالالتزام جمعہ کر یام میں پڑھتے۔گرمی کے دنوں رمضان اور برسات کے موقع پر بھی ضرور پہنچتے۔جب نہ آتے تو ہم سمجھتے کہ بیمار ہو گئے ہوں گے۔آپ نے وصیت کی ہوئی تھی۔آمد کا دسواں حصہ ادا کرتے تھے اور بھی جو چندہ آپ کو سنایا جا تا شرح صدر سے ادا کرتے۔قادیان شریف میں مستقل رہائش کا ارادہ رکھتے تھے۔اپنے بڑے بیٹے مولوی اللہ دتا صاحب کو خدمت دین کیلئے حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے حضور وقف کر دیا تھا۔استقاء کی مرض سے