حیاتِ خالد — Page 325
حیات خالد 324 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام میں وہاں ایک پرانی طرز کا مدرسہ تھا جس میں شیخ عبد القادر صاحب مغربی ، بچوں کو قرآن شریف پڑھایا کرتے تھے لیکن بڑھنے والی قوم کا قدم آگے ہی آگے پڑتا ہے۔ہمارے بچے اگر غیروں کے مدرسوں میں جائیں تو یہ اندیشہ شدید تھا کہ مخالف اساتذہ ان کو اپنے خیالات سے مسموم نہ کریں اس لئے یہ شدید ضرورت تھی کہ وہاں ایک جدید نظام پر ایک مدرسہ قائم کر دیا جائے۔اس کے لئے سخت مشکلات تھیں۔کیا بیر میں کوئی مدرس نہیں مل سکتا تھا۔غیر احمدی مدرس کو اپنے مدرسہ میں رکھنے سے ہماری غرض مفقود ہو جاتی تھی اس لئے بہت سی پریشانیوں میں سے گزرنا پڑا۔آخر تجویز ہوئی کہ مصر سے ایک نوجوان احمدی فلسطین بھیج دیا جائے۔کچھ وہ اور کچھ شیخ عبدالقادر مغربی اور کچھ مشنری خود پڑھائے اور اس طرح مل ملا کر مدرسہ کو چلایا جائے۔اس غرض کیلئے محمد سعید بخت ولی نامی نوجوان کو منتخب کیا گیا۔محمد سعید ازھر میں ایک طالبعلم تھا۔اس کا والد افغانی رواق کا شیخ تھا۔محمد سعید احمدی ہو کر سلسلہ میں داخل ہوا۔علماء ازھر نے تحقیقات کر کے اس کو ازھر سے خارج کر دیا۔وظیفہ بند کر دیا۔مگر وہ اس تکلیف میں بھی ثابت قدم رہا اس لئے تجویز ہوئی کہ اسے مدرسہ کیلئے فلسطین بھیج دیا جائے۔مگر حکومت فلسطین نے اسے فلسطین میں جانے کی اجازت نہ دی۔ایک لمبی جدو جہد کے بعد مولانا اس کے فلسطین لے جانے میں کامیاب ہو گئے اور مدرسہ کی شکل کو تبدیل کر کے جدید نظام مدارس کی طرز پر مدرسہ کا افتتاح کر دیا۔اس مدرسہ کی آج یہ حالت ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے حکومت فلسطین نے اسے منظور کر لیا ہے اور وہ بہت جلد سرکاری امداد حاصل کرلے گا۔فلسطین ایک پہاڑی ملک ہے۔پہاڑی لوگ عموماً تیز اور تند مزاج ہوتے ہیں اور پھر اس پر طرفہ یہ ہے کہ وہ عربی اور ترکی قوموں کی آماجگاہ ہے۔ان لوگوں کے لئے موت ایک آسان تر چیز ہے۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر تلوار کا اٹھ جانا اور خنجر کا نکل آنا ایک آسان بات ہے۔آئے دن وہاں ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں کہ سر بازار قتل ہو جاتے ہیں اس لئے وہاں کے عام عقیدہ کے خلاف کوئی بات کہنی آسان بات نہیں۔چنانچہ ۱۹۳۲ء کا ایک واقعہ میں حقیقت کو واضح کرنے کیلئے درج کر دیتا ہوں۔بیت المقدس میں مفتی اعظم نے ایک اسلامی کا نفرنس منعقد کی۔اس میں شرکت کے لئے ہر ایک ملک کے نمائندہ آئے۔مصر سے بھی ایک تعداد شریک ہوئی۔اس وقت صاحب الدولہ اسماعیل صدقی پاشا قلمدان وزارت سنبھالے ہوئے تھے۔اسماعیل صدقی پاشا کے ایک خاص قابل اعتماد دوست استاذ سلیمان فوزی ایڈیٹر اخبار کشکول بھی شریک ہوئے۔وفدی پارٹی سے استاد عبد الرحمن عزام شریک