حیاتِ خالد — Page 316
حیات خالد 315 بلا وعر بیہ میں تبلیغ اسلام قیام مصر کے زمانہ کی بات ہے کہ ایک دفعہ عیسائی مبلغین تثلیث اور توحید کے حامی سے حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کے بارے میں مناظرہ مقرر ہو گیا۔فریق مخالف میں دو امریکن پادری اور ایک مصری پادری تھے۔یہ امریکن پادری بھی ہیں سال سے زیادہ مصر میں رہنے کے باعث اچھی طرح عربی بولتے تھے۔اس مباحثہ میں الازھر کے بعض مشائخ اور دوسرے تعلیم یافتہ لوگ بھی سامعین میں شامل تھے۔خوب دھوم دھام اور شان سے مباحثہ ہوا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام کا غلبہ ظاہر ہوا ایک عجیب اتفاق اس موقعہ پر یہ ہوا کہ عیسائی صاحبان کی طرف سے پہلے مصری پادری صاحب نے جواب دئیے۔امریکن انچارج پادری نے اس کی کمزوری کو محسوس کر کے دوسرے موقعہ پر خود کھڑا ہونا ضروری سمجھا اور جواب دینے کی کوشش کی۔دو مرتبہ کے بعد وہ خود بخود بیٹھ گیا اور تیسرے پادری کو کھڑا کر دیا۔اس بیچارے نے بھی ہاتھ پاؤں مارے مگر ان سب سے بات نہ بن سکی۔معاملہ یہ پیش تھا کہ خود انجیل سے ہی ایسے دو مومن گواہ پیش کر دیئے جائیں جو یہ گواہی دیں کہ ہم نے بچشم خود حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر جان دیتے ہوئے دیکھا ہے۔اس مطالبہ کو ان پادری صاحبان میں سے کوئی پورا نہ کر سکا۔اس پر ایک صاحب نے کہا کہ یہ کیا بات ہے کہ ادھر تین پادری باری باری بولتے ہیں اور ادھر آپ اکیلے ہی ان سب کو جواب دے رہے ہیں۔میں نے بطور لطیفہ کہا کہ میں توحید کا حامی ہوں اس لئے اکیلا ہوں اور وہ تثلیث کے قائل ہیں اس لئے تین ہیں۔اس پر پادری صاحبان بھی مسکرا پڑے۔(ماہنامہ الفرقان دسمبر ۱۹۵۸ء صفحہ ۷-۸) مبلغین احمدیت کے کارنامے فلسطین میں حضرت مولانا کے قیام فلسطین میں ہمارے مبلغ کے ساڑھے چار سال کا سب سے خوبصورت تذکر محترم محمود احمد عرفانی صاحب ابن شیخ یعقوب علی صاحب تراب عرفانی نے اخبار الحکم ۱۹۳۶ء میں کیا جسے ہم ذیل میں درج کر رہے ہیں۔ایک مبلغ کے کام پر ریویو کرنا بہت ہی مشکل کام ہے کیونکہ جو کام ہمارے سامنے آتا ہے وہ اس کام کی نسبت بہت ہی تھوڑا ہوتا ہے جو ہمارے سامنے نہیں آتا۔مولانا ابوالعطاء جالندھری کی جب