حیاتِ خالد — Page 313
حیات خالد 312 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام نے کہا کہ جی ہاں دیکھا ہے وہاں پر انبیاء کی قبریں بھی دیکھی ہیں۔اس پر الشیخ العوشی نے دریافت کیا کہ کیا ان قبروں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی قیر بھی ہے؟ طلبہ نے نفی میں جواب دیا۔استاد نے فرمایا کہ بس معلوم ہو گیا کہ چونکہ حضرت عیسی کی قبر وہاں موجود نہیں اس لئے وہ آسمانوں پر زندہ ہیں۔پھر استاد صاحب فاتحانہ انداز میں مجھے کہنے لگے کہ آج تو آپ کو حضرت عیسی کی قبر کی نشاندہی کرنی پڑے گی در نہ انہیں زندہ مانا پڑے گا میں آپ کو لاجواب کر کے جاؤں گا۔میں نے مزید نرم لہجہ میں شیخ صاحب سے عرض کیا کہ حضرت اس سوال کو چھوڑئیے یہ عقیدہ وفات مسیح سے براہ راست متعلق نہیں ہمیں ان کی قبر سے کیا واسطہ۔ہم کوئی ان کو خدا یا خدا کا بیٹا مانتے ہیں کہ ان کی قبر تلاش کر کے اس کی پرستش شروع کر دیں۔میری اس منا ظر ا یہ حکمت عملی کو نہ سمجھتے ہوئے شیخ مذکور اور زیادہ اصرار کرنے لگے۔گویا ان کا سوال وہ پتھر ہے جو اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتا۔اس دوران گا ہے گا ہے آپ اپنے طلبہ سے داد خواہ بھی ہوتے تھے۔میں نے کہا۔دیکھئے جناب قبر کا اتا پتا بتانے سے یہ معاملہ ختم نہ ہوگا۔آپ پھر دوسرے لامتناہی سوالات کا سلسلہ شروع کر دیں گے۔مثلا یہ کہ وہ کس بیماری سے فوت ہوئے تھے؟ کس وقت فوت ہوئے تھے؟ کس تاریخ کو اور کس موسم میں فوت ہوئے۔تھے؟ ان کا علاج کون کرتا تھا ؟ ان کو کیا کیا دوا دی گئی تھی ؟ ان کو نسل کس نے دیا تھا؟ کفن کس نے پہنایا تھا؟ ان کی قبر کس نے کھو دی تھی؟ ان کو لحد میں کس نے اتارا تھا؟ وغیرہ۔بات کو مختصر کرتے ہوئے صرف یہ دیکھ لیں کہ قرآن مجید ان کو وفات یافتہ قرار دیتا ہے یا نہیں؟ اگر قرآن مجید سے ان کی وفات ثابت ہو جائے تو ہمیں عقیدہ کے لئے دوسری جزوی باتوں میں پڑنے کی ضرورت نہ ہوگی۔تاریخی تحقیقات کا مسئلہ الگ ہے۔میری اس تشریح کو انہوں نے پھر جواب سے گریز قرار دے کر طلبہ کو اپنی نمایاں فتح کی طرف توجہ دلائی اور مجھے کہنے لگے کہ آج تو ہم آپ کو ادھر ادھر جانے نہ دیں گے۔ہم وفات مسیح از روئے قرآن مجید پر کوئی گفتگو نہ کریں گے۔بس آپ ہم کو صرف یہ بتا دیں کہ اگر حضرت مسیح فوت ہو گئے ہیں تو ان کی قبر کہاں ہے؟ اور اگر آپ ان کی قبر کا نشان نہیں بتا سکتے تو ہماری طرح ان کو آسمانوں پر زندہ مان لیں۔میں اسی ایک سوال پر حصر کرتا ہوں۔جب میں نے دیکھا کہ سادہ فطرت نوجوان طلبہ کے چہروں سے بھی کچھ حیرت کا اظہار ہونے لگا ہے۔گویا وہ میرے انداز کلام کو پوری طرح سمجھ نہیں رہے۔تب میں نے پہلو بدلتے ہوئے شیخ صاحب سے کہا کہ گویا آپ حضرت مسیح کی قبر کی نشاندہی کے بغیر کسی اور بات پر راضی نہ ہونگے ؟ انہوں نے سر