حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 314 of 923

حیاتِ خالد — Page 314

حیات خالد 313 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام ہلاتے ہوئے اس کی تصدیق کی۔میں نے کہا کہ لیجئے پھر میں آپ کو حضرت مسیح کی قبر کا پتہ بھی بتائے دیتا ہوں۔اس پر استاد بھی چونکا اور طلبہ بھی ہمہ تن متوجہ ہو گئے۔میں نے پوری نقاہت سے آہستہ سے یہ فقرہ کہا۔"إِنَّ قَبْرَ عِيْسَى فِى جَنْبِ قَبْرِ نُوْحٍ عَلَيْهِمَا السَّلام کہ حضرت عیسی کی قبر حضرت نوح کی قبر کے پہلو میں ہے۔میرا یہ کہنا تھا کہ استاد پر سکتہ طاری ہو گیا۔اور طلبہ بھی حیرت زدہ ہو گئے۔تھوڑے سے وقفہ کے بعد الشیخ العبوشی فرمانے لگے۔فَايْنَ قَبْرُ نُوحٍ لا نَدْرِى قَبرہ کہ حضرت نوح کی قبر کہاں ہے ہمیں تو اس کا پتہ نہیں۔میں نے بطور لطیفہ کہا جناب ! حضرت نوح کی قبر حضرت عیسی کی قبر کے بائیں جانب ہے اور حضرت عیسی کی اس کے دائیں طرف۔آپ حضرت نوح کی قبر بتا دیں میں حضرت عیسی کی قبر دکھا دوں گا۔میں نے استاد کی حیرانی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے طلبہ کو مخاطب کر کے کہا کہ کیا تم نے الخلیل میں حضرت نوح کی قبر دیکھی ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔وہاں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور بعض دیگر نبیوں کی قبریں ہیں۔نوح کی قبر تو وہاں نہیں۔میں نے کہا کہ کیا پھر وہ بھی آسمانوں پر زندہ ہیں؟ کہنے لگے کہ حضرت نوح زندہ تو نہیں ہیں۔میں نے کہا کہ پھر قبر کے معلوم نہ ہونے کو آسمانوں پر زندہ ہونے کی دلیل کیونکر ٹھہرایا جا سکتا ہے؟ اس علہ پر استاد صاحب پر بھی اپنی بودی دلیل کی حقیقت منکشف ہو چکی تھی اور وہ میرے ابتدائی بظاہر گریز کو میری چالاکی پر محمول کرنے لگے اور کہنے لگے کہ آپ نے پہلے ایسا انداز اختیار کر کے ہمیں اپنے سوال پر پختہ کر دیا۔اچھا آپ نوح کا معاملہ چھوڑ دیں ہم قبر کے معاملہ کو حضرت عیسی کی زندگی پر دلیل نہیں ٹھہراتے آپ ہمیں بتا ئیں کہ تاریخی طور پر آپ کیا مانتے ہیں؟ اب فضا صاف تھی اور ذہن اطمینان سے غور کرنے کے لئے تیار تھے۔میں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ المومنون کی آیت وَ اوَيْنَهُمَا إِلَى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِينٍ میں اشارہ فرمایا ہے کہ حضرت مسیح کی زمین پر آخری قرارگاہ وہ خطہ ارضی ہے جو عمدہ پہاڑی وادی ہے اور شفاف بہتے پانیوں کا علاقہ ہے یہ سرزمین کشمیر ہے۔پھر میں نے اس بارے میں انہیں پوری تفصیل بتائی جسے وہ ہمہ تن گوش ہو کر سنتے رہے۔اور بالآخر ایک ایک فنجان قہوہ پی کر شکر یہ ادا کرتے ہوئے رخصت ہوئے۔وَاخِرُ دَعْوَانَا ان الحَمدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔(ماہنامہ الفرقان نومبر ۱۹۵۸ء صفحه ۴-۵-۸)