حیاتِ خالد — Page 308
حیات خالد 307 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام کیا ان کی نماز اللہ کے نزدیک مقبول نہیں؟ اگر آپ لوگوں کو اپنی زبان دانی پر اتنا ہی فخر ہے تو آئیں اور میرے ساتھ قرآن مجید کی تفسیر لکھنے کا مقابلہ کر لیں۔انہوں نے مولانا کے اس چیلنج کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔کہنے لگے اس کے لئے تو ہم تیار نہیں ہیں۔اس پر غیر احمدی علماء نے مولانا سے پوچھا کہ آپ کی رائے میں ہم تینوں میں سے علم کے لحاظ سے سب سے بڑا عالم کون ہے۔مولانا نے جواباً فرمایا۔میں یہ مناسب نہیں سمجھتا کہ اس بارے میں اپنی رائے ظاہر کروں کہ کون بڑا عالم ہے اور کون چھوٹا۔لیکن ان کے بار بار کے اصرار پر مولانا نے فرمایا کہ شیخ حسن فہم القرآن کے لحاظ سے بڑے عالم ہیں اور شیخ توفیق کو علم حدیث کے لحاظ سے آپ سب پر فوقیت حاصل ہے اور تیسرے شیخ کے بارے میں فرمایا کہ وہ علمی لحاظ سے نہایت ضعیف اور کمزور ہیں۔اس کے بعد یہ علماء چلے گئے۔عبدالمالک صاحب نے بیان کیا کہ ایک دفعہ حمادی" خاندان کے چند نوجوان حضرت مولانا صاحب کے پاس آئے اور ختم نبوت کے موضوع پر بحث ہوئی۔بحث کے آخر پر نوجوان کہنے لگے کہ ہم دوبارہ آئیں گے۔تین ماہ کے بعد دوبارہ آئے اور اس موضوع پر دوبارہ بحث ہوئی۔بحث کے انتقام پر مولانا نے ان سے پوچھا کہ اب کب ہماری آپ سے ملاقات ہوگی۔انہوں نے جوابا کہا کہ قیامت کے دن مولانا نے فرمایا کہ وہاں ہماری آپ سے ملاقات نہیں ہو سکے گی۔اگر آپ لوگ بھی حضرت امام مہدی علیہ السلام پر ایمان لے آئے تو ملاقات کی توقع کی جاسکتی ہے۔لیکن اگر آپ نے ان کا انکار کر دیا اور ہمیں کا فر کہنے والوں کی صف میں شامل ہو گئے تو پھر آپ کی اور ہماری ملاقات نہیں ہو سکے گی۔کیوں کہ وہاں تو آپ قرآن مجید کے مندرجہ ذیل الفاظ کہہ رہے ہوں گے۔وَقَالُوْا مَالَنَا لا تَرَى رِجَالاً كُنَّا ا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَارِه اَتَّخَذْنَهُمْ سِحْرِيًّا أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ - ( سورة ص : ۶۴۶۳) ترجمہ: اور اس وقت دوزخی کہیں گے ہمیں کیا ہوا کہ آج ہم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جن کو ہم برا قرار دیا کرتے تھے۔کیا ہم ان کو ( یونہی اپنے دلی خیال کی وجہ سے ) حقیر سمجھتے تھے یا اس وقت ہماری آنکھیں سمج ہو گئی ہیں ( اور وہ ہمیں نظر نہیں آتے ) مولانا نے فرمایا کہ آپ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے دعوئی پر غور کریں اور ان پر ایمان لائیں کیونکہ اسی میں آپ کے لئے خیر ہے۔اس طرح یہ مجلس ختم ہوئی۔مسلمانوں کے ایک عالم شیخ محمد قدمی جو کہ بعد میں شیخ برنا بہ بن گئے۔اسلام سے مرتد ہو کر عیسائی