حیاتِ خالد — Page 307
حیات خالد 306 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام محترم حامد صالح عودہ ساکن کبا بیر نے بتایا کہ مولانا ابوالعطاء صاحب مرحوم مولانا شمس صاحب مرحوم کی قادیان واپسی کے بعد مستقل طور پر کہا پیر میں سکونت پذیر ہو گئے ہم اس وقت ان سے چھوٹے اور ابتدائی جوانی کے ایام میں تھے۔ہم مولانا کے کمرہ میں جمع ہو جاتے اور مولا نا ہمیں انڈین چائے" دودھ والی بنا کر پلاتے تھے۔ہم مولانا کو کہتے یہ چائے بہت مزیدار ہے۔ہم روزانہ یہاں آپ کے پاس چائے پینے کے لئے آیا کریں گے۔اس پر مولانا بڑی بے تکلفی کے انداز میں فرمایا کرتے تھے ہر روز نہیں بلکہ کبھی کبھی۔محترم حامد صالح صاحب ساکن کیا پیر نے بتایا کہ مولانا نو جوانوں کی تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھتے تھے اور ان کو مختلف مقامات پر اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔بعض اوقات سیر کو جاتے وقت بعض نو جوانوں کو اپنے ساتھ لے جاتے اور اکثر پکنک کے لئے اور تیرا کی کی مشق کروانے کے لئے ان کو ساحل سمندر پر لے جاتے اور وہاں نوجوانوں کے ساتھ بڑی بے تکلفی سے تیرتے اور ان کو تیرنا سکھاتے۔خاص طور پر جو تیرا کی نہ جانتے تھے انہیں اپنے ساتھ پانی میں لے جا کر تیرنا سکھاتے تھے۔خاص طور پر عبد الرحمن بر جاوی جو کہ پانی میں اُترنے سے ڈرتے تھے انہیں فرماتے آئیں میرے ساتھ۔ڈریں نہیں۔تیرنا سیکھیں۔عبد المالک محمد عود و صاحب نے بتایا کہ السید منیر الحصنی صاحب مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالی نے مولانا ابوالحظ ، صاحب کو زبر دست قوت بیان عطا فرمائی ہے اور مزاطا فرمایا کرتے تھے کہ اگر ایک کمرہ خالی ہو اور مولانا ابو العطاء صاحب یہ ثابت کرنا چاہیں کہ یہ کمرہ سونے چاندی سے بھرا ہوا ہے۔تو بڑی ہی آسانی سے اور ٹھوس دلائل سے ثابت کر دیں گے کہ ہاں یہ کمرہ سونے چاندی سے بھرا ہوا ہے۔عبدالمالک محمد عودہ صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ تین علماء حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کے پاس آئے۔ایک کا نام شیخ حسن، دوسرے کا شیخ توفیق اور تیسرے کا نام یاد نہیں رہا۔انہوں نے مغرب کی نماز مولانا کی اقتداء میں پڑھی۔اس کے بعد بحث ختم نبوت کے موضوع پر شروع ہوئی۔اتنے میں عشاء کی نماز کا وقت ہو گیا۔عشاء کی نماز ان تینوں نے مولانا کی اقتداء میں ادا کرنے سے گریز کیا۔بعد ازاں ان سے مولانا نے پوچھا آپ لوگوں نے عشاء کی نماز ہمارے ساتھ کیوں نہ پڑھی۔انہوں نے کہا کہ جو شخص سورہ فاتحہ صحیح عربی تلفظ کے ساتھ نہیں پڑھتا ہم ایسے عجمی کے پیچھے نماز ادا نہیں کرتے۔