حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 306 of 923

حیاتِ خالد — Page 306

حیات خالد آمد حیفا فلسطین ۴ ستمبر ۱۹۳۱ء واپسی از حیفا فلسطین - ۱۰ / فروری ۱۹۳۶ء 305 بلا د عر بیہ میں تبلیغ اسلام حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب ۱۳ اگست ۱۹۳۱ء کو قادیان سے فلسطین کے لئے روانہ ہوئے اور ۱۴ ستمبر ۱۹۳۱ء کو حیفا تشریف فرما ہوئے۔آپ کو اس دیار مقدسہ میں تقریباً ساڑھے چار سال تاریخ ساز خدمات دیا یہ بجالانے کی توفیق ملی۔اس دور کے اہم واقعات تو سلسلہ کے اخبارات ورسائل میں شائع ہو چکے ہیں۔لیکن چند واقعات جو شاید پہلے شائع نہ ہوئے ہوں ہدیہ قارئین ہیں۔جب مولا نا ابو العطاء صاحب رحمہ اللہ حیفا پہنچے تو مولانا جلال الدین شمس صاحب کے ساتھ حیفا کے علاقہ "برج " شارع سنتو پر واقع ایک کرایہ کے مکان میں رہا کرتے تھے۔عبدالمالک محمد عودہ صاحب ساکن کہا بیر حیفا بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں ہر دو مبلغین سے ملاقات کے لئے گیا۔تھوڑی ور بات چیت کرنے کے بعد مجھے مولا ناشس صاحب نے بعض خورد و نوش کی اشیاء خریدنے کے لئے بازار بھیجا۔میں مطلوبہ اشیاء خرید کر لایا۔مولانا شمس صاحب نے کھانا تیار کیا اور ہم سب نے کھانا تناول کیا۔کھانے کے بعد انگوروں کی ایک پلیٹ ہمارے سامنے رکھی گئی۔مولانا ابو العطاء صاحب انگور کا ایک ایک دانہ لیتے اور اسے چوستے۔تھوڑی دیر کے بعد مولانا ابوالعطاء صاحب ہاتھ دھونے کے لئے منسل خانہ گئے ، تو حاضرین میں سے کسی نے مولا نائٹس صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نئے مبلغ صاحب کمزور سے معلوم ہوتے ہیں۔اس پر مولا نائٹس صاحب نے فرمایا کہ ابھی آپ لوگ مولانا ابوالعطاء صاحب کی خداداد صلاحیتوں سے واقف نہیں ہیں۔وہ بہت بڑے عالم دین اور کامیاب مناظر ہیں۔مستقبل قریب میں آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ مولانا ابوالعطاء کتنے بڑے عالم ہیں۔سامعین اس جواب پر خاموش ہو گئے اور مستقبل نے روز روشن کی طرح ثابت کر دیا کہ جو کچھ حضرت مولا نائٹس صاحب نے فرمایا تھا وہ بالکل درست تھا۔محترم عبد المالک محمد عودہ صاحب نے بتایا کہ مولانا ابوالعطاء صاحب مرحوم جب شروع میں فلسطین تشریف لائے تو اپنا زیادہ وقت مطالعہ میں گزارتے تھے۔صرف دروس اور بحث ومباحثہ کے وقت ہی احباب کے ساتھ بیٹھتے تھے۔آپ کا طریق یہ تھا کہ حسب ضرورت چند کتابیں لے کر باہر کھیتوں یا پہاڑیوں کی طرف چلے جاتے تھے۔وہاں ہی اکثر وقت دعاؤں اور مطالعہ میں گزارتے عربی اخبارات الدفاع “ اور ”فلسطین کا روزانہ بڑی باقاعدگی سے مطالعہ فرماتے تھے۔