حیاتِ خالد — Page 301
حیات خالد وو 300 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام حفاظت و اشاعت اسلام کے متعلق ایک احمدی مبلغ کی کامیاب جدو جہد " قائم کر کے درج ذیل کامیاب مساعی کا ذکر کیا۔ہمارے نئے احمدی بھائی السید احمد افندی ذہنی کی بیوی ایک انگریز خاتون کا قبول اسلام ایک انگریز لیڈی ہیں وہ متعصب مسیحی خاتون تھیں۔انجیل خوب جانتی ہیں۔میں جب قاہرہ آیا تو ان کو تبلیغ اسلام کی گئی۔چونکہ وہ عربی اچھی طرح نہیں جانتیں۔اس لئے میرے بیان کو انگریزی میں بیان کرنے کیلئے السید ذہنی افندی ترجمان ہوتے۔متعدد مرتبہ گفتگو ہوئی۔ہر سوال کا کافی و وافی جواب دیا گیا۔تین چار مرتبہ با قاعدہ طور پر اسلام اور عیسائیت کے موازنہ پر لمبی بحث ہوتی رہی۔انداز بحث آزادانہ اور علمی ہوتا تھا۔آخر محض اللہ تعالی کے فضل سے ۱۸ / اگست کو اس نے میرے ذریعہ قبول اسلام کر لیا اور اس کی درخواست بیعت سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے حضور ارسال کر دی گئی۔ایک یہودی سے گفتگو ایک یہودی مکان پر آئے انہوں نے میرا عبرانی اشتہار پڑھا تھا۔قریباً دو گھنٹہ تک ان سے آنحضرت ﷺ کے متعلق تو رات کی پیشگوئیوں پر گفتگو ہوئی۔بعض غیر احمدی اصحاب بھی اس موقعہ پر حاضر تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے سب پر اچھا اثر ہوا۔مصر کے سب سے بڑے دشمن اسلام پادری سرجیوس کے گر جا عیسائیوں کا مباحثہ سے فرار میں گیا۔وہ وعدہ کے باوجود مجھے سوالات تک کرنے کی اجازت نہ دے سکے۔جب میں نے دیکھا کہ زبانی گفتگو کی کوئی صورت نہیں ہے۔تو میں نے کھلی چٹنی برائے تحریری مناظرہ شائع کر دی۔یہ ٹریکٹ بکثرت شائع کیا گیا۔خاص طور پر پادری صاحب مذکور کے گر جا کے پاس زیادہ تقسیم کیا گیا۔قاہرہ کے روزانہ اخبار "الکشکول نامی نے بھی ہماری اس کھلی چھٹی کو شائع کیا۔اس پر پادری سرجیوس نے اپنے ہفتہ واری رسالہ المنارۃ المصریہ" میں طویل مضمون لکھا۔جس میں گالیوں کے علاوہ سیاسی مسائل کا جھگڑا مسلمانوں کی اکثریت اور عیسائیوں کی اقلیت کا رونا رونا شروع کر دیا۔آخر ہماری کھلی چٹھی کے ایک حصہ کو نقل کر کے مناظرہ سے صاف انکار کر دیا۔جس سے عیسائیوں کے سمجھدار طبقہ میں حیرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔کئی مسیحی دوستوں نے پادری صاحب