حیاتِ خالد — Page 29
حیات خالد 31 ابتدائی خاندانی حالات میرے بعض مناظرات انہوں نے مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ بھی سنے تھے۔میں اللہ تعالیٰ کے اس انعام کا ذکر کر رہا ہوں کہ اس نے مجھ ناچیز کو ایسے دیندار گھرانے میں پیدا فرمایا اور نعمت ایمان و عرفان سے سرفراز کیا۔میں اپنے ماں باپ کے احسانات کا بدلہ دینا تو کجا ان کا پورا احاطہ بھی نہیں کر سکتا۔ہمیشہ اپنے رب کریم سے کہتا ہوں رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّينِي صَغِيرًا۔وہ دونوں مقدس بزرگ موصی تھے اور اب قادیان شریف کے بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں اور ان کی روحیں جنت الفردوس میں پرواز کر رہی ہیں۔میرا اللہ ہمیشہ ان کے درجات بلند کرے۔آمین۔(الفرقان اپریل ۱۹۷۵ صفحه ۴۳ - ۴۴) حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خدا رسیدہ والد محترم کا ذکر حیاۃ ابی العطاء کی پہلی قسط میں بڑی محبت سے فرمایا ہے۔یہ ذکر اگر چہ اوپر بیان شدہ امور کا کسی قدر اعادہ دکھائی دیتا ہے مگر حضرت مولانا کی بابرکت تحریر کی لذت میں ایک دفعہ پھر قارئین کو شریک کرنا چاہتا ہوں۔ایک نیک تمنا حضرت مولانا صاحب تحریر فرماتے ہیں۔وو ” میرے والد مرحوم مجھے بہت چھوٹی عمر میں ہی نماز جمعہ کیلئے کر یام ساتھ لے جایا کرتے تھے۔مجھے حضرت با با حسن محمد صاحب مرحوم ( والد حضرت مولوی رحمت علی صاحب مرحوم مبلغ انڈونیشیا) نے سنایا تھا کہ جب تم چھوٹے بچے تھے اور ابھی گاؤں میں پڑھتے تھے تو ایک دفعہ میں اپنے تبلیغی دورہ میں کر یام آیا ہوا تھا۔تمہیں تمہارے والد صاحب کر یام جمعہ کیلئے لائے تھے۔نماز جمعہ کے بعد تمہارے والد نے کھڑے ہو کر دوستوں سے کہا کہ بھائیو! میں نے اپنے اس بیٹے کو اللہ کی راہ میں وقف کر دیا ہے تم سب ہاتھ اٹھا کر اس کیلئے دعا کرو نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے ایسا عالم دین بنائے کہ یہ مولوی ثناء اللہ امرتسری کو شکست دے۔حضرت بابا حسن محمد صاحب نے فرمایا کہ حاجی غلام احمد صاحب اور ہم سب نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی تھی۔چونکہ میرے دادا متعصب اہلحدیث تھے۔مولوی ثناء اللہ صاحب کا اخبار گھر میں آتا تھا اس لئے حضرت والد صاحب کے دل میں یہ تڑپ تھی کہ میرا بیٹا احمدیت کا ایسا خادم ہو کہ مولوی ثناء اللہ کو شکست دے۔اللہ تعالیٰ اپنے مقبول بندوں کی دردمندانہ دعاؤں کو ضرور سنتا ہے۔میرے والد مرحوم اور احباب جماعت کی یہ دعاسنی گئی۔حضرت والد صاحب نے اپنی وفات (دسمبر ۱۹۲۷ء) سے پہلے پہلے اپنی آنکھوں دیکھ لیا کہ تحریر و تقریر اور مباحثات میں احمدیت کے اس ناچیز خادم کے سامنے مولوی ثناء اللہ لا جواب ہوتے رہے۔وَ ذَلِكَ فَضْلُ اللهِ وَلا فَخْرَ (ماہنامہ الفرقان اکتوبر ۱۹۶۷ء صفحه ۴۳ ۴۴ )