حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 28 of 923

حیاتِ خالد — Page 28

حیات خالد 30 ابتدائی خاندانی حالات دو حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے حیاۃ ابی العطاء کے ایک باب زیر عنوان انعامات الہیہ کا کچھ تذکرہ میں اپنے خوش نصیب والدین اور خصوصیت سے والد محترم کا تذکرہ بایں الفاظ فرمایا ہے۔عاجز کی تاریخ پیدائش ۱۴ار اپریل ۱۹۰۴ ء ہے اللہ تعالی کے فضل و احسان سے اب میری عمر کا بہترواں سال شروع ہو رہا ہے۔ہر دن اور ہر گھڑی اللہ تعالی کے فضل سے ہی گزر رہی ہے۔گزشتہ اے برسوں میں بیماریوں کے حملے بھی ہوئے ، دشمنوں نے قاتلانہ حملے بھی کئے ، کئی حوادث بھی پیش آئے جو بظاہر موت کا پیغام تھے مگر میرے رب کریم نے اپنی حفظ و امان میں رکھا۔پس زندگی کا ایک ایک لمحہ اس کے احسان و انعام کا نتیجہ ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ نئے سال بلکہ نئے سالوں کو بھی اپنے متواتر انعامات و احسانات کا ذریعہ بنائے۔وَهُوَ عَلَى مَا يَشَاءُ قَدِيرٌ آمین ! اللہ تعالی کا یہ عظیم کرم ہے کہ اس نے مجھے ایک دیندار مسلمان اور مخلص احمدی گھرانے میں پیدا فرمایا۔میرے والدین ۱۹۰۲ء میں احمدیت قبول کر کے اس کی راہ میں گھر سے بے گھر ہو چکے تھے۔میرے دادا قاضی مولا بخش صاحب نے جو کر اہلحدیث امام مسجد تھے، میرے والد حضرت میاں امام الدین صاحب کو سخت زدو کوب کیا ، گھر سے نکال دیا ، وراثت سے محروم کر دیا، میری والدہ مرحومہ کا سارا زیوراتر والیا۔وہ گاؤں ( کر یہا ضلع جالندھر) کے دوسرے حصہ میں ایک کرایہ کے مکان میں جا ٹھہرے۔معمولی دکانداری پر گزارہ تھا۔گاؤں بھر میں یہی اکیلا گھرانہ احمدی تھا اور ہر قسم کے طعن و تشنیع اور تشدد کا نشانہ تھا۔ایمان کی لذت کے نتیجہ میں وہ یہ سب باتیں خندہ پیشانی سے برداشت کرتے تھے۔میرے والدین بالخصوص والد صاحب مرحوم کی دعا تھی کہ اللہ تعالیٰ مجھے بیٹا عطا فرمائے تو میں اسے راہ خدا میں وقف کروں اور اسے خدمت اسلام کرتا ہوا اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں۔میرے دادا صاحب کے پاس اخبار اہلحدیث آتا تھا اور حضرت والد صاحب کے پاس اخبار الحکم آیا کرتا تھا۔جب میری عمر پانچ چھ سال کی تھی تو ایک دن والد صاحب مرحوم مجھے نماز جمعہ کیلئے اپنے ساتھ کر یام لے گئے۔کریام ہمارے گاؤں سے اڑھائی میل کے فاصلے پر تھا اور وہاں بڑی جماعت تھی۔حضرت حاجی چوہدری غلام احمد صاحب رضی اللہ عنہ اس جماعت کے روح رواں تھے۔حضرت والد صاحب مرحوم نے جمعہ کی نماز کے بعد جملہ احباب سے درخواست کی کہ ہاتھ اٹھا کر دعا کریں کہ میں نے جو اپنے بیٹے کو وقف کیا ہے یہ مولوی ثناء اللہ صاحب کو شکست دینے والا بنے۔مجھے یہ روایت حضرت بابا حسن محمد صاحب والد محترم مولانا رحمت علی صاحب مرحوم مبلغ انڈونیشیا نے اس وقت بڑی خوشی سے سنائی جب