حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 297 of 923

حیاتِ خالد — Page 297

حیات خالد 296 بلا د عر بیہ میں تبلیغ اسلام برخاست ہوا۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ اوَّلًا وَاخِرًا احباب سے التماس ہے کہ مولیٰ کریم سے دعا فرما دیں کہ جلد سے جلد جماعت احمدیہ کو ان ممالک میں مزید مساجد کے قیام کی بھی توفیق بخشے اور جماعت کو تقویت عطا کرے۔خاکسارا ابوالعطاء اللہ دتا جالندھری۔حیفا - فلسطین الفضل مورخه ۸ مارچ ۱۹۳۴ ء صفحه ۵) حضرت مولانا کے قیام بلاد عربیہ کے جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات کا اعتراف دوران ایک قابل ذکر واقعہ عالم عرب کے ایک ممتاز دانشور ماہر تعلیم اور مشہور زمانہ الازھر یونیورسٹی کے سابق سربراہ الشیخ مصطفی المراغی کا۔بیان ہے جس میں انہوں نے جماعت احمدیہ کی عالمگیر خدمات اسلام کا اعتراف کیا۔ان کا یہ بیان یا فا (فلسطین) کے اخبار الجامعہ الاسلامیہ نے اپنی اشاعت ۱۴ نومبر ۱۹۳۳ء میں شائع کیا۔علامہ مراغی نے عالم اسلام کے دینی تربیت کا محتاج ہونے تبلیغ اسلام کی ضرورت اور زمانے کے تقاضوں کا ذکر کرنے کے بعد لکھا۔( ترجمہ ) : ”ہندوستانی مسلمانوں کی جماعت احمدیہ کے افراد نے ہندوستان اور انگلینڈ میں تبلیغ اسلام شروع کر رکھی ہے۔اور انہیں اس میں ایک حد تک کامیابی بھی ہوئی ہے۔جیسا کہ وہ افراد بھی کامیاب ہوئے ہیں جو کہ امریکہ میں تبلیغ اسلام کر رہے ہیں۔اس مضمون کے آخر میں حضرت مولانا کا نام درج ہے۔(الفضل اار مارچ ۱۹۳۴ء صفحہ ۷ ) بلاد عربیہ میں احمدیہ پریس کا قیام اور ماہوار رسالہ البشریٰ کا اجراء ( حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کی الفضل میں مطبوعہ ایک رپورٹ ) ’احباب جماعت یہ پڑھ کر خوش ہوں گے کہ محض اللہ تعالی کے فضل و کرم سے جماعت ہائے بلاو عربیہ کو جل کرمل پر احمد یہ پریس قائم کرنے کی توفیق ملی ہے۔مسجد سید نا محمود اور مدرسہ احمدیہ کے افتتاح کے بعد احمد یہ لائبریری اور بک ڈپو کا قیام نیز مرکز تبلیغ کا بنا مسرت انگیز امور ہیں۔لیکن احمد یہ پریس کا قیام بھی از بس ضروری تھا۔ہماری جماعت کی تعداد بھی تھوڑی ہے۔لیکن اللہ تعالی کے فضل سے مخالفین پر ایک رعب ہے اس کا نتیجہ ہے کہ مصر، فلسطین شام اور عراق کے اخبارات ہماری مخالفت کرنا اور