حیاتِ خالد — Page 296
حیات خالد 295 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام اور حیفا نے ایک نہایت موزوں محل پر مسجد بنانے کا عزم کیا۔اس ملک کے اخراجات کے پیش نظر اس جگہ مسجد بنانا قریباً طاقت سے بڑھ کر بوجھ تھا کیونکہ ان علاقوں میں جماعتیں ابھی ابتدائی حالت میں ہیں اور مالی حالت بھی اچھی نہیں ہے لیکن اللہ تعالی کا ہزار ہزار شکر ہے جس نے محض اپنے فضل غریب جماعت کو عظیم الشان مسجد قائم کرنے کی توفیق بخشی۔مورخه ۳ را پریل ۱۹۳۱ء بروز جمعه جناب مولوی جلال الدین صاحب شمس مولوی مسجد کا افتتاح فاضل احمدی مبلغ نے تمام احباب جماعت کی موجودگی میں اس مسجد کا بنیادی پتھر رکھا اور اخلاص بھرے دلوں کے ساتھ احباب مسجد بنانے میں مصروف ہو گئے۔ماہ ستمبر ۱۹۳۱ء میں خاکسار یہاں آیا اور مولوی صاحب موصوف ہندوستان تشریف لے گئے۔مسجد کی تکمیل کا کام آہستہ آہستہ جاری رہاتی کہ دسمبر ۱۹۳۳ء میں مسجد بالکل مکمل ہو گئی اور ۳ / دسمبر ۱۹۳۳ء کو اس عاجز نے مسجد کا با قاعدہ افتتاح کیا۔اور تمام دوستوں سمیت دعائیں کی گئیں کہ اللہ تعالیٰ اس مسجد کو ہمیشہ آبا در کھے۔اور عبادت و ذکر الہی کرنے والے انسان تا قیامت اس جگہ موجودر ہیں۔رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيمُ۔آمین اس کی تکمیل کی تاریخ کا کتبہ یوں ہے۔لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ جامع سید نا محمود شعبان ۱۳۵۲ ابوالعطاء الجالندھری یہ کتبہ بڑے شمالی دروازے کے اوپر لگا یا گیا ہے۔اس کے افتتاح کی تقریب کا ذکر حضرت مولانا نے یوں فرمایا : - اس مبارک مسجد کا افتتاحی جلسه ۳ / دسمبر ۱۹۳۳ء مطابق ۱۰ر شعبان ۱۳۵۲ھ کو ہوا افتتاحی جلسہ جس میں سولہ احمدیوں نے لیکچر دیے جس میں سے الشیخ علی الفرق، الشیخ احمدی المصرى، الشیخ سلیم الربانی الشیخ عبد الرحمن البر جادی، الشیخ صالح العودی، الشیخ احمد الکبا بیری اور السید خضر افندی الفرق خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔اخیر پر خاکسار نے ایک مفصل لیکچر دیا۔جس میں مسجد کی اغراض اور جماعت احمدیہ کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔اور بعد ازاں ایک لمبی دعا کے بعد جلسہ