حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 295 of 923

حیاتِ خالد — Page 295

حیات خالد 294 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام ہیں مسیح صلیب پر لٹکائے ہی نہیں گئے لیکن احمدی ان کے خلاف یہ مانتے ہیں کہ مسیح کو صلیب پر لٹکایا گیا مگر مرا نہیں اور پھر کہا دراصل میں اس مضمون کیلئے تیار ہو کر نہیں آیا۔غرض بغیر اس کے کہ ایک دلیل کو بھی چھوتا لوگوں کو ابھارنا چاہا اور وقت ختم ہونے سے پہلے ہی بیٹھ گیا۔میں نے جوابا کہا غالبا پادری صاحب مسلمانوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں مگر یہ ان کی نا نہی ہے۔کیا یہ لوگ احمدیوں کا عقیدہ نہیں جانتے تمہیں اس سے کیا کہ ہمارا اور مسلمانوں کا اختلاف ہے تم مسیح کی صلیبی موت کا ثبوت دو۔چونکہ بحث از روئے بائیکل ہے اس لئے مسلمانوں کے باہمی اختلاف کا اس میں کیا دخل ہے؟ میری تقریر کے بعد پادری کامل منصور صاحب تو مبہوت ہو گئے۔پھر پادری فیلیپس کھڑے ہوئے مگر بجز پولوس کے بعض اقوال پڑھنے کے کچھ نہ کر سکے۔آخر پر پادری ایلڈر اٹھے اور غضب ناک ہو کر کہنے لگے کہ ہم سینکڑوں سالوں سے مانتے چلے آئے ہیں کہ یسوع صلیب پر مر گیا اب یہ نیا مذہب پیدا ہو گیا ہے۔نہایت محبت سے جواب دیا گیا کہ ناراضگی سے تو کچھ بنتا نہیں اور عقید ہ خواہ کروڑوں سال سے ہو جب تفاظ ثابت ہو جائے تو اس کا چھوڑ نا ضروری ہے۔غرض یہ مناظرہ بھی نہایت کامیاب ہوا۔اللہ تعالیٰ نے خاص نصرت فرمائی۔اختتام پر ایک شدید مخالف نے شکریہ ادا کیا۔ایک ازہری نے کہا کہ بخدا اگر تمام علماء از ہر مل کر بھی ایسا مناظرہ کرنا چاہیں تو نہ کرسکیں۔پادری کامل منصور نے مجھ سے جاتے وقت کہا کہ آپ نے تو مسیحیت کا ہم سے بھی زیادہ مطالعہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس مناظرہ کا چرچا عام ہوا۔اور دور دور تک اس کا ذکر پہنچا۔الحمد للہ۔(الفضل ۴ / جون ۱۹۳۳ء صفحه ۱۰) حضرت مولانا نے اپنی ایک رپورٹ مطبوعہ الفضل میں تحریر جامع مسجد سید نا محمود کا افتتاح فرمایا۔فلسطین میں جماعت احمدیہ کی پہلی مسجد۔ارض مقدسہ فلسطین میں کوہ کر مل کو ایک خاص حیثیت حاصل ہے۔الیاس نبی علیہ السلام کا مقام اسی پہاڑ پر ہے۔خضر کے نام پر بھی ایک مقام اس جگہ موجود ہے۔غرض یہود و نصاری اور مسلمانوں کا کسی نہ کسی رنگ میں اس پہاڑ سے خاص تعلق ہے۔اسی پہاڑ پر کہا بیر کی بستی آباد ہے۔اس بستی کے باشندوں کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ بلاد عر بیہ میں سب سے پہلے بحیثیت مجموعی قریباً سارا گاؤں احمدیت میں داخل ہوا ہے یہ جگہ ایک خوشنما محل وقوع اور سر سبز جگہ پر واقع ہے۔کوہ کرمل پر عیسائیوں کے گرجے ہیں، یہودیوں کی عبادت گاہیں ہیں لیکن مسجد بنانے کا عزم مسلمانوں کی کوئی مسجد نہ تھی۔آج سے تین برس پیشتر جماعت احمد یہ کہا بیر