حیاتِ خالد — Page 292
حیات خالد 291 بلادهم بی میں تاریخ اسلام مسیحی: اللہ سے دوری اور دھتکار۔احمدی: کیا ایک معصوم نبی کیلئے یہ تصور کیا جاسکتا ہے۔چاہے ہماری خاطر ہی کیوں نہ ہو کہ بارگاہ الہی سے دھتکارا گیا۔مسیحی : ہماری خاطر موقت طور پر ملعون ہونے میں کیا حرج ہے۔احمدی: ماشاء اللہ۔یہ قول آپ کے ہی شایاں ہے کہ ایک طرف یسوع کو خدا بنا کر آسمان پر بٹھاتے ہیں اور دوسری طرف اسے ملعون مان کر تحت العربی میں گراتے ہیں۔ہماری تو روح کانپ اٹھتی ہے جب ہم آپ سے یہ سنتے ہیں کہ یسوع مسیح ملعون ہو گیا۔مسیحی: (حیران ہو کر ) اچھا انجیل سے آپ کے پاس کونسی دلیل ہے؟ احمدی: دلائل تو بے شمار ہیں لیکن میں اس وقت صرف دو پیش کرتا ہوں۔(۱) مسیح نے کہا:۔اس زمانہ کے برے اور زنا کارلوگ نشان طلب کرتے ہیں۔مگر یونس نبی کے نشان کے سوا کوئی اور نشان ان کو نہ دیا جائے گا کیونکہ جیسے یونس تین دن رات مچھلی کے پیٹ میں رہا۔ویسے ہی ابن آدم تین دن رات زمین کے اندر رہیگا۔(متی ۱۲:۳۹) یہ مشابہت صرف اسی صورت میں متحقق ہو سکتی ہے جب کہ ہم یہ تسلیم کریں کہ حضرت مسیح صلیب پر نہیں مرے بلکہ زندہ قبر میں داخل ہوئے اور زندہ ہی نکلے۔(۲) عبرانیوں میں آتا ہے:۔یسوع مسیح نے موت سے رہائی کیلئے دعا مانگی اور خدا نے ان کے تقومی کے باعث سنی۔(۵:۷) پس اگر صلیب پر مر جاتے تو یہ دعا رائیگاں جاتی۔مسیحی مشابہت صرف دنوں اور راتوں کی جہت سے ہے نہ کہ موت اور حیات کے لحاظ سے؟ احمدی: تین دن رات تو ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ جمعہ کی شام کو قبر میں ڈالے گئے اور اتوار کے دن طلوع آفتاب سے پہلے دیکھا گیا تو وہاں نہیں تھے۔مسیحی یہ درست ہے لیکن ہم یہود کے طریق شمار کے مطابق جمعہ کی شام کو ایک کامل دن شمار کرتے ہیں۔احمد کی اچھا اگر ہم جمعہ کو ایک دن بھی شمار کر لیں تو جمعہ اور ہفتہ دو دن ہوئے تیسرا دن کہاں ہے۔پھر راتیں بھی تین نہیں بنتیں کیونکہ آپ صرف دو راتیں جمعہ اور ہفتہ کی قبر میں رہے۔( اس مرحلہ