حیاتِ خالد — Page 288
حیات خالد 287 ہلا دھر ہیں میں تبلیغ اسلام غیر احمد یوں کو ، دوسرے دن غیر مسلموں کو ، دونوں موقعوں پر تبلیغی ٹریکٹ بھی شائع کئے گئے اور قریباً تمام احمدیوں نے ان دنوں تبلیغ کی۔فلسطین کے علاوہ احمد یہ لٹریچر مندرجہ ذیل ممالک میں بھیجا گیا۔تبلیغی لٹریچر دیگر ممالک میں تمان، مصر، شام، الجزائر، تونس ،گولڈ کوسٹ، مشرقی افریقہ، حجاز، امریکہ، جادا ، سماٹرا، عراق، لبنان۔۱۹۳۲ء میں اس نام سے ایک سہ ماہی رسالہ جاری کیا گیا ہے۔البشارة الاسلامیہ الاحمدیہ اللہ تعالٰی کے فضل سے اخیر دسمبر ۱۹۳۲ء تک اس کے چاروں نمبر بخیر و خوبی شائع ہو گئے۔ہر نمبر ایک ہزار چھپتا رہا۔لیکن نمبر چہارم جس میں رسالہ ” نور الاسلام از ہر یونیورسٹی کا جواب تھا۔تین ہزار شائع کیا گیا۔الحمد للہ۔اب ۱۹۳۳ء میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے رسالہ کو بجائے سہ ماہی کے ہر دوسرے مہینے شائع کرنے کا ارادہ ہے۔چنانچہ اس سال کا پہلا نمبر یا مسلسل نمبروں میں سے پانچواں نمبر ماہ مارچ میں شائع ہو چکا ہے۔احباب سے درخواست ہے کہ اس مشن کی کامیابی کیلئے خاص طور پر دعا فرما دیں۔احباب جماعت کا بحیثیت جماعت کوئی نظام نہیں۔نہ وہ جمع ہو سکتے ہیں۔جماعت احمد یہ دمشق بعض دوست اپنے طور پر کچھ چندہ مبلغ فلسطین مشن کو بھیج دیتے ہیں۔ٹریکٹوں کی اشاعت کرتے رہتے ہیں۔ایک ٹریکٹ ایک ہزار کی تعداد میں چھپوا کر حال ہی میں انہوں نے شائع کیا ہے۔اخراجات : فلسطین مشن کو سال زیررپورٹ ۲۶۵ روپیہ مرکز سے بھیجا گیا۔سالانہ رپورٹ صدر انجمن احمد به ۰۱۹۳۳ ۱۹۳۲ صفحه ۱۵ ۱۵۵) فلسطین کے ایک مشہور عیسائی مشنری کر ملی جو لغت عرب کے عیسائی مشنری کرملی سے گفتگو بڑے ماہر سمجھے جاتے اور علامہ " کہلاتے ہیں ان کی حیفا میں مبلغ احمدیت حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری سے چند نوجوانوں کی موجودگی میں ملاقات ہوئی۔مولانا موصوف نے بعض مذہبی ولغوی امور پر ان سے تبادلہ خیالات کیا۔چونکہ یہ گفتگو بہت دلچسپ ہونے کے علاوہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ احمدی مبلغ کے دلائل قویہ کے سامنے ایک مشہور عربی دان عیسائی مشنری کیلئے بالکل دم بخود ہو جانے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا اس لئے اس کا ترجمہ روز نامہ الفضل