حیاتِ خالد — Page 282
حیات خالد 281 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام محض فضل سے ایسا موقع ہاتھ آیا ہے۔اس سے پورا فائدہ روحانی اٹھانے کی کوشش کریں۔آپ میرے لئے بھی دعا کریں کیونکہ میرے دل میں یہ سخت حسرت ہے کہ اس قسم کا موقع اب شاید مجھے نہ ملے۔اگر کسی اور رنگ میں اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنے افضال کی بارش برسائے تو اس کی رحمت سے یہ بات بعید نہیں ہے۔ہم اس امید پر زندہ ہیں۔دوسری بات جو میں عرض کرنی چاہتا ہوں کہ ایک نوجوان آدمی کیلئے یہ بہت بڑا مجاہدہ ہے کہ اپنے اہل وعیال سے علیحدہ رہ کر اپنی عفت کو صحیح معنوں میں قائم رکھ سکے۔یہ کافی نہیں ہے کہ انسان صرف ارتکاب زنا سے محفوظ رہے۔بلکہ اس کے دل کے خیالات اس کی نظر اس کے ہاتھ پاؤں بلکہ تمام اعضاء اس قسم کے تاثرات سے محفوظ رہنے ضروری ہیں۔والا کامیابی ناممکن ہو جاتی ہے۔میں چونکہ ایک ایسے ملک میں جا رہا تھا جہاں اباحت کا دریا بہتا ہے اس لئے مجھے لوگوں نے اس قسم کے ابتلاء سے سخت ڈرایا اس سے مجھے سخت فکر لاحق ہوئی تو یہی القاء بتلا یا گیا کہ سورۃ یوسف کو بار بار پڑھنا چاہئے۔اس کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل سے گھبراہٹ کو دور فرمایا اور مجھے اطمینان ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس قسم کے ابتلاء سے محفوظ رکھے گا۔بلکہ میں نے اپنے اندر اس قسم کی طاقت محسوس کی جس سے میرا تمام ڈر اور گھبراہٹ دور ہوگئی۔دوسری دفعہ انگلستان میں جا کر میں نے شادی کی لیکن وہ حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ ( خلیفہ ثانی۔ناقل ) کی اجازت سے اس احساس کے ماتحت تھی کہ میری پہلی بیوی کی صحت کمزور ہے اور مجھے ان کے ساتھ اکیلا رہنے سے ان کی صحت ضائع ہو جانے کا خطرہ تھا اور یہ بھی خیال تھا کہ دوسری عورت کی مدد سے کام میں سہولت پیدا ہوگی۔والا کسی جسمانی جذبہ کے ماتحت نہ تھی۔اللہ تعالی آپ کے ساتھ ہو۔والسلام۔خاکسار فتح محمد سیال ۲۳ ربیع الاول ۱۳۵۰ھ حضرت مولانا نے بلا و عر بیہ کیلئے سفر کی روانگی کے دن کو خوب یاد روانگی کے دن کی یاد رکھا۔چنانچہ اگست ۱۹۷۴ء کے الفرقان میں آپ نے ”حیاۃ ابی العطاء کے زیر عنوان تحریر فرمایا: - آج ۱۳/ اگست ۱۹۷۴ ء ہے آج سے تنتالیس (۴۳) برس پیشتر ۱۳۔اگست ۱۹۳۱ء کو یہ عاجز قادیان سے تبلیغ اسلام واحمدیت کی غرض سے فلسطین کیلئے روانہ ہوا تھا۔میری زندگی میں یہ ایک خاص دن تھا۔میری عمراس وقت ستائیس سال تھی۔حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس مرحوم کی جگہ سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے مجھے بلاد عربیہ کیلئے انچارج مبلغ نامزد فرمایا تھا۔میں اپنی