حیاتِ خالد — Page 279
حیات خالد 278 بلا دعر بیہ میں تبلیغ اسلام اللَّهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيَاتِهِ وَيُعْظِمْ لَهُ أَجْرًا - وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ - وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ الله إن الله مع المُتَّقِينَ (٢) وَعَلَيْكَ بِنِيَّةِ إِطَاعَةِ اللَّهِ وَ اِطَاعَةِ رَسُوْلِهِ عِنْدَ كُلَّ حَرَكَةٍ وَسُكُوْن فَإِنَّ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَمْرٌ وَّ نَهَى - أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى وَإِنَّمَا الْاعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ - وَبِذَلِكَ يَتَحَقَّقُ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا اَطِيْعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْا أَعْمَالَكُمْ (۳) وَعَلَيْكَ بِالدُّعَاءِ عِنْدَ كُلِّ مَاذَهَبَ وَآتَى وَغَابَ وَ بَدَا فَإِنَّ الدُّعَاءَ سِلاحُ جَمِيعِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْاَوْلِيَاءِ وَالصُّلَحَاءِ ومَعْقُوْدٌ بِهَا الْفَلَاحُ وَالنَّجَاةُ - وَمَا شَقِيَ مَنْ دَعَا عَسَى أَنْ لَّا اَكُوْنَ بِدُعَاءِ رَبِّي شَقِيًّا وَّ لَمْ أَكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا۔(۴) وَإِلَيْكَ أَنْ تُحَدِتْ نَفْسُكَ أَنَّكَ عَمِلْتَ وَ فَعَلْتَ وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ فَإِنَّ هَذَا صِرٌّ أَوْ إِعْصَارٌ لِحَرْثِكَ وَزَرْعِكَ اَوْ صَاعِقَةٌ لِسَرْحِكَ وَضَرْعِكَ فَالْحَذَرَ الْحَذَرَ محمد سرور ۳۱-۸-۱۱ اُردو تر جمہ : ۱۔میں آپ کو تقویٰ اللہ کی وصیت کرتا ہوں یقینا تقویٰ ہر چیز کا مدار ومحور ہے۔اور جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اس کیلئے تنگی سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو اور جس کو اللہ کا تقویٰ ہو اللہ تعالیٰ اس کے معاملہ میں آسانی پیدا کر دیتا ہے۔اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو دور کر دیتا ہے اور اس کیلئے اجر بڑھا دیتا ہے۔اللہ تعالی کا تقویٰ اختیار کریں تا آپ فلاح پائیں اور اللہ کا تقوی اختیار کریں وہ آپ کو علم عطا فرمائے گا۔یقیناً اللہ تعالیٰ متقیوں کا ساتھی ہے۔۲۔آپ پر لازم ہے کہ ہر حرکت و سکون میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی نیت رکھیں پس ان ہر دو باتوں کیلئے۔یقینا امر بھی ہے اور نہی بھی۔اور اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور اسی سے ان کا اچھا یا برا ہونا ثابت ہوتا ہے۔اے ایمان والو! اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو۔۔ہر موقعہ پر جب کوئی چیز جائے یا آئے اور گم ہو جائے یا ظاہر ہو دعا کو لازم کپڑ و یقیناً دعائی سب انبیاء اور اولیاء اور صلحاء کا ہتھیار ہے اور فلاح اور نجات اسی سے بندھی ہوئی ہے۔وہ بد بخت نہ ہوا جس نے دعا کی۔امید ہے کہ میں اے میرے رب ! تجھ سے مانگنے میں بے نصیب نہ ہوں گا اور نہ ہی میرے رب ! تجھ سے دعا کی بدولت بے نصیب ہوں گا۔