حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 27 of 923

حیاتِ خالد — Page 27

حیات خالد 29 ابتدائی خاندانی حالات جب حق آشکار ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو پوری طرح شرح صدر عطا فرما دیا تو آپ نے پہلے خط کے ذریعہ بیعت کی۔یہ ۱۹۰۲ ء کا واقعہ ہے اور پھر بعد میں ۱۹۰۵ء میں قادیان حاضر ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست حق پرست پر بیعت کا شرف حاصل کر لیا۔مکرم جناب میاں محمد حنیف حضرت منشی امام الدین صاحب کی قادیان میں آمد صاحب جو حضرت مولانا سنے ماموں زاد، آپ کی پہلی زوجہ محترمہ کے بھائی اور حضرت ڈاکٹر محمد ابراہیم صاحب کے صاحبزادے تھے بیان کرتے ہیں۔جب حضرت دادا جان ( حضرت میاں نظام الدین صاحب ) اور حضرت میاں امام الدین صاحب ( والد حضرت مولانا ) دستی بیعت کیلئے قادیان گئے تو ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ہوا یوں کہ آپ جب قادیان پہنچے تو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور پہنچنے میں بڑی دقت پیش آئی۔اس سے قبل آپ کبھی قادیان نہ گئے تھے۔لہذا قادیان کے رستوں اور لوگوں کا کوئی علم نہیں تھا۔آپ نے راستہ معلوم کرنے کیلئے ایک آدمی سے پوچھا کہ بھائی ہم نے حضرت مرزا صاحب کے ہاں جانا ہے۔ذرا ہماری رہنمائی کر دیں۔چنانچہ اس آدمی نے آپ کو ساتھ لیا اور شرارتاً آپ کو اور حضرت میاں امام الدین صاحب کو مرزا محمد اسماعیل صاحب کی دکان پر لے گئے جو ان دنوں دودھ دہی کی دکان کیا کرتے تھے۔وہ وہاں جا کر کہنے لگے یہ ہیں مرزا صاحب انہیں مل لو۔مرزا محمد اسماعیل صاحب کو دیکھتے ہی حضرت میاں نظام الدین صاحب کہنے لگے۔جس مرزا کو ہم دیکھنے آئے ہیں وہ یہ نہیں ہیں۔اس کے بعد ایک اور صاحب کی معیت میں حضور علیہ السلام کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔حضور ان دنوں باغ میں تشریف رکھتے تھے۔وہاں پر دستی بیعت کا شرف حاصل کیا“۔یا در ہے کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۴ اپریل سے ۲ جولائی ۱۹۰۵ء تک اپنے گھر کے ساتھ واقع باغ میں تین ماہ تک قیام فرمایا۔اس کی وجہ ہندوستان میں آنے والے زلزلے تھے جن میں کانگڑہ کا زلزلہ سب سے ہیبت ناک تھا اور حضرت بانی سلسلہ کی پیشگوئی کے مطابق آیا تھا۔حیات طیبہ صفحہ ۳۶۷- ۱۳۶۸ از شیخ عبدالقادر صاحب)