حیاتِ خالد — Page 260
حیات خالد 266 مناظرات کے میدان میں ایک دن حضرت مولوی صاحب نے اپنی کسی جسمانی تکلیف کا اظہار کیا تو میں نے عرض کیا کہ ہمارا فوجی ہسپتال بالکل قریب ہے میں آپ کا طبی معائنہ کسی اچھے ڈاکٹر سے کروا دیتا ہوں۔حضرت مولوی صاحب رضامند ہو گئے۔طے شدہ پروگرام کے مطابق وقت پر حضرت مولوی صاحب تشریف لائے۔ہم پوری طرح تیار تھے۔ہمارے ڈاکٹر صاحب بھی بڑی اچھی طرح پیش آئے۔ڈاکٹر صاحب کو میں نے حضرت مولوی صاحب کے متعلق سوائے اس کے اور کوئی بات نہیں بتائی تھی کہ یہ ہمارے مولوی صاحب ہیں۔معائنہ کے وقت حضرت مولوی صاحب نے اپنے زائد کپڑے ایک طرف رکھ دیئے۔ڈاکٹر صاحب نے بڑی توجہ سے معائنہ کیا اور حضرت مولوی صاحب کو پوری طرح تندرست قرار دیا۔اس کے بعد مولوی صاحب رخصت ہو گئے۔میں آپ کو ہسپتال کے گیٹ تک چھوڑ کر واپس آیا تو میری حیرت کی کوئی حد نہ رہی جب ڈاکٹر صاحب نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا آپ کے مولوی صاحب مناظر ہیں؟ میں نے ڈاکٹر صاحب کو جوابا کہا کہ ہاں یہ بڑے کامیاب مناظر ہیں لیکن آپ کو کیسے پتہ چلا کیونکہ میں نے تو آپ کو اس بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میں مولوی صاحب کو کپڑے رکھتے اور اٹھاتے ہوئے دیکھتا رہا اور آپ کی تمام دیگر حرکات اور گفتگو پر بھی بڑی باریکی سے غور کرتا رہا ہوں۔اس سے میں نے یہ اندازہ لگایا کہ آپ کے مولوی صاحب ضرور مناظر ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے تو اس واقعے سے یہی نتیجہ نکالا ہے کہ حضرت مولوی صاحب کی ہر حرکت آپ کی فرض شناسی ، تقوی نیکی اور خادم دین ہونے کا کھلا ثبوت تھی۔