حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 240 of 923

حیاتِ خالد — Page 240

حیات خالد 246 مناظرات کے میدان میں اور کہا کہ اس حدیث سے ظاہر ہے کہ قیامت کو رسول کریم عملہ بھی وہی بیان دیں گے جو حضرت مسیح علیہ السلام دیں گے کہ اپنے ساتھیوں کا میں اس وقت تک نگہبان تھا جب تک میں ان میں رہا۔اے خدا جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی ان پر نگہبان تھا۔اسی طرح آیت تَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ اور دعا جنازہ سے مَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيْمَانِ پیش کر کے توفی کے معنی وفات دینا ثابت کئے۔مولوی عبد اللہ صاحب نے میاں عبد الحق صاحب کے مطالبہ کے جواب میں لا تَوَفَّاهُمْ قُرَيْشُ فِي الْعَدَدِ کا مصرعہ پیش کیا اور کہا یہ لسان العرب میں ہے۔مگر کتاب پیش نہ کی۔مولوی عبدالحق صاحب نے کہا یہ میرے مطالبہ کو پورا نہیں کرتا کیونکہ اس میں فاعل قریش تھے۔حدیث کے متعلق مولوی عبداللہ نے کہا یہ جھوٹی ہے۔جب میاں عبدالحق صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ مولوی عبداللہ صاحب نے بخاری شریف کی اس حدیث کو جھوٹا کہا ہے تو اس پر مولوی عبداللہ صاحب نے کہا کہ میرا یہ مطلب ہے۔ترجمہ غلط کیا گیا ہے مگر خود ترجمہ کر کے نہ دکھلایا۔اثنائے تبادلہ خیالات میں مولوی عبد اللہ نے ڈینگ ماری کہ کوئی مجھے توفی کے معنی وفات ثابت کر دے تو میں ایک ہزار روپیہا انعام دوں گا۔ہم نے اسی وقت رقعہ لکھ کر دیا کہ اس چیلنج پر مولوی عبدالله صاحب دستخط کر دیں۔مگر وہ دستخط کیلئے تیار نہ ہوئے۔ماسٹر محمد صادق صاحب نے کہا کہ میں گفتگو کے ختم ہونے پر دستخط کرادوں گا۔جب انہوں نے تمام بھری مجلس میں یہ وعدہ کر لیا کہ وہ دستخط کر دیں گے تو پھر گفتگو جاری ہوئی۔مگر مولوی عبداللہ آخر تک میاں عبد الحق صاحب کی دلیل کو نہ توڑ سکے اور اہل گاؤں نے اس دن یہ نشان دیکھا کہ احمدیوں میں سے ایک معمولی لکھا پڑھا آدمی ان کے ایک مناظر کو لا جواب کر سکتا ہے۔جب شام قریب ہونے لگی تو میں نے مولوی عبد اللہ صاحب کو ایک تحریر بھیجی کہ توفی کے متعلق آپ نے ایک ہزار روپیہ کا جو انپیج دیا ہے وہ مجھے منظور ہے۔اب آپ موضع بھٹیاں میں مجھ سے اس پر مناظرہ کر لیں مگر مولوی عبداللہ صاحب نے اس کا کوئی جواب نہ دیا اور ہمیں اس کے متعلق کوئی تحریر دینے کیلئے تیار نہ ہوئے۔بلکہ منبر پر چڑھ کر کہا شرائط وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں بغیر شرائط کے ہی مناظرہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ میاں عبد الحق صاحب کی اس تبلیغی کوشش میں جو انہوں نے اپنے اخلاص سے انجام دی ہے برکت ڈالے اور گاؤں کی سعید روحوں کو جلد حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(روز نامه الفضل قادیان دارالامان ۲۳ را پریل ۱۹۴۵ صفحه ۵ -۶) ( تاریخ احمدیت جلد دہم صفحه ۶۳ - ۵۶۲ پر اس مباحثہ کا مختصر تذکرہ درج ہے )