حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 23 of 923

حیاتِ خالد — Page 23

حیات خالد 23 اجمالی خاکہ تدریسی خدمات : بطور استاد جامعہ احمدیہ۔پرنسپل جامعہ احمدیہ۔پرنسپل جامعتہ المبشرین - ۱۹۴۲ء تا ۱۹۵۷ لیکچرار د جینیات تعلیم الاسلام کالج ۱۹۵۷ء تا ۱۹۶۲ء تصنیفی خدمات چھوٹی بڑی تصانیف کی مجموعی تعداد ایک سو سے زائد ہے۔خدمت سلسلہ کے مناصب : ممبر تقویم کمیٹی ۱۹۳۹ء ممبر افتاء کمیٹی ۱۹۴۴ء تا آخر ممبر مجلس مذہب و سائنس ۱۹۴۵ء۔قائد مجلس انصار الله مرکز یه ۱۹۵۰ء تا دم آخر۔نائب صدر مجلس انصار اللہ مرکزیہ۔ممبر مجلس وقف جدید ۱۹۵۸ء تا دم آخر قائمقام وکیل التبشیر ۱۹۵۷ء میں ۷ ماہ۔صدر مجلس صحافیان ربوہ۔صدر امداد گندم کمیٹی۔ایڈیشنل ناظر تعلیم القرآن ( وقف عارضی)۔صدر مجلس کار پرداز صدرانجمن احمد یہ۔امیر مقامی ربوہ۔ام تقریری خدمات : زندگی بھر یہ سلسلہ جاری رہا۔جلسہ سالانہ قادیان بعد ازاں جلسہ سالانہ ربوہ میں بالعموم ہر سال خطاب کیا تقاریر کی تعداد ۵۵۔ہندوستان و پاکستان کے سینکڑوں شہروں اور دیہات میں ہزار ہا علمی تبلیغی اور تربیتی تقاریر کیں۔متعدد کا نفرنسوں میں شمولیت اور جماعت کی نمائندگی کی۔اعزازات: ایک مناظرہ کے موقع پر حضرت مصلح موعودؓ نے سند نیابت عطا فرمائی ۱۹۳۰ء۔حضرت مصلح موعود نے خالد احمدیت کا خطاب عطا فر ما ی ۱۹۵۶ء۔وزیر اعظم پاکستان خواجہ ناظم الدین کو ملنے والے جماعت کے مرکزی وفد میں شمولیت ۱۹۵۲ء۔پاکستان کی قومی اسمبلی میں جانے والے وفد میں شمولیت ۱۹۷۴ء۔اسفار : ہندوستان اور (تقسیم ہند کے بعد ) پاکستان کے شہروں اور دیہات میں سینکڑوں بار گئے۔علاوہ از میں بلاد عر بیہ ( فلسطین، لبنان ، مصر اور شام) برطانیہ، ایران اور بنگلہ دیش کے سفر کئے۔متفرقات : ساری زندگی وعظ ونصیحت کا سلسلہ جاری رہا۔قادیان اور ربوہ میں متعدد بار اعتکاف کیا۔اولاد: چار بیٹے اور نو بیٹیاں ( دو بیٹیوں کی کم سنی میں وفات ) وفات : ۲۹ اور ۳۰ مئی ۱۹۷۷ ء کی درمیانی شب ایک بجے۔عمر عیسوی اعتبار سے ۷۳ سال۔ہجری قمری اعتبار سے ۷۵ سال۔تدفین قطعه خاص بہشتی مقبرہ ربوہ