حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 216 of 923

حیاتِ خالد — Page 216

حیات خالد 222 مناظرات کے میدان میں جلسہ کی کارروائی ۱۵ جون تین بجے بعد دو پہر شروع ہوئی۔پہلے جامعہ احمدیہ کے چند طلباء نے متفرق مسائل پر تقریریں کیں۔ان کے بعد مولوی ابوالعطاء صاحب نے احمدیت کے بعض مسائل نیز بعض ان اعتراضات کے جواب دیئے جو غیر احمدی اپنے جلسہ میں کر رہے تھے۔پھر مولوی ظفر احمد صاحب صدیقی نے جو حال ہی میں احمدی ہوئے ہیں اور اس علاقہ میں بوجہ علمیت اچھی شہرت رکھتے ہیں۔قبول حق کے بواعث مختصر مگر دلکش انداز میں بیان کئے۔ان کے بعد گیانی عباداللہ صاحب نے سکھ مسلم تعلقات کے موضوع پر بہت دلکش تقریر کی جسے جلسہ میں بیٹھے ہوئے سکھ اصحاب نے بہت پسند کیا۔گیانی صاحب کے بعد جناب مولا نا مولوی غلام رسول صاحب را جیکی نے اپنے مخصوص انداز میں غیر احمدیوں کے اعتراضات کے جواب دیئے اور صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عام فہم پیرا یہ اور میں پیش کیا۔اس جلسہ کے دوران میں احرار کی بدزبانی کی آواز میں برابر آتی تھیں اور احمدی احباب سن کر بے حد مضطرب ہوتے تھے مگر جناب مولوی عبد المغنی خان صاحب ناظر دعوة و تبلیغ اور دوسرے بزرگ ان کو قابو میں رکھے ہوئے تھے اور اس خیال سے کہ کوئی احمدی دوست ان کے جلسہ میں نہ جا سکے خدام الاحمدیہ کے نو جوانوں کا پہرہ لگا دیا گیا تھا۔مغرب کی نماز سے تھوڑی دیر قبل جلسہ کی کارروائی ختم ہوئی اور کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر جناب مولوی عبدالرحیم صاحب نیر نے اپنا لیکچر بذریعہ میجک لینٹرن دیا جو بہت مقبول ہوا۔موسم کی خرابی کے باوجود لیکچر کا میابی سے ختم ہوا۔مجسٹریٹ صاحب نے یقین دلایا تھا کہ احراری رات کو کوئی جلسہ نہیں کریں گے مگر انہوں نے ایک الگ تھلگ جگہ میں جلسہ کیا اور حسب عادت بد زبانی بھی کی۔دو احمدی نوجوان رپورٹ لینے کے لئے بھیجے گئے مگر پولیس پر دباؤ ڈال کر ان کو نکلوا دیا گیا۔سب انسپکٹر صاحب پولیس نے ان کو سختی سے وہاں سے اٹھا دیا۔اور اس کے متعلق جب ان سے اپیل کی گئی تو اسے سننے سے انکار کر دیا اور اگلے روز بھی احمدی رپورٹروں کو احرار کی جلسہ گاہ میں بیٹھنے سے پولیس نے روکا اور دریافت کئے جانے پر بتایا کہ مجسٹریٹ صاحب کے حکم کے ماتحت ایسا کیا گیا ہے۔مجسٹریٹ صاحب سے جناب مرزا عبدالحق صاحب وکیل نے دریافت کیا۔تو انہوں نے کہا کہ میں نے کوئی ممانعت نہیں کی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی غلط نہی اس بارہ میں ہو گئی تھی۔ار جون کی صبح کو نو بجے کے قریب اجلاس شروع ہوا۔پہلے مولوی غلام احمد صاحب ارشد کی تقریر