حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 189 of 923

حیاتِ خالد — Page 189

حیات خالد 195 مناظرات کے میدان میں حیات مسیح کے موضوع پر تقریر کرنے کے غیر متعلق باتیں شروع کر دیں۔چنانچہ کہا۔ہم امام جماعت احمدیہ کو مباہلہ کا چیلنج دیتے ہیں مگر وہ مقابل پر نہیں آتے۔اس کا جواب مولوی اللہ دتا صاحب مولوی فاضل نے یہ دیا کہ اگر اہلحدیثوں کے امیر شریعت مباہلہ پر آمادگی کا اظہار کریں تو سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی اید اللہ بنصرہ العزیز ہر وقت مباہلہ کرنے کیلئے تیار ہیں اور اگر کوئی اور تیار ہو تو ہم اس چیلنج کو اسی وقت منظور کرتے ہیں۔اس کا کچھ جواب نہ دیا گیا۔دوران مباحثہ میں ترقی کے لفظ پر سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو ایک ہزار روپیہ کا انعامی اشتہار شائع فرمایا ہوا ہے اسے بھی پیش کیا گیا اور کہا گیا اگر کوئی اس اصل کو غلط ثابت کر دے جو تَوَفِّی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے تو ہم ہر وقت ایسے شخص کو ایک ہزار روپیہ انعام دینے کیلئے تیار ہیں اور اس کے علاوہ نہیں روپے اسی مجلس میں اپنی طرف سے بھی دیں گے مگر کسی کو اس طرف رخ کرنے کی جرات نہ ہوئی۔فریق مخالف نے دو غلط حوالے پیش کئے جنہیں صحیح ثابت کرنے کیلئے احمدی مناظر نے فی حوالہ میں رو پید انعام پیش کیا مگر غیر احمدی مناظر انہیں ثابت نہ کر سکا۔خدا کے فضل سے آٹھ بجے شام مناظرہ ختم ہوا۔دوسرے دن ۳۰ / جون سات بجے صبح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر مباحثہ شروع ہوا۔ہماری طرف سے مولانا اللہ د تا صاحب جالندھری مولوی فاضل مناظر تھے اور اہلحدیثوں کی طرف سے حافظ احمد الدین صاحب۔ابتدائی تقریر میں مولوی اللہ دتا صاحب نے ضرورت زمانہ کو پیش کرتے ہوئے قرآن و احادیث اور اقوال ائمہ کی روشنی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت ثابت کی اور بتایا کہ موجودہ دور کے مصلح اعظم کے آگے سر اطاعت جھکانا ہی سعادت مندی ہے۔غیر احمدی مناظر صداقت مسیح موعود علیہ السلام کے دلائل میں سے تو کسی ایک کو بھی رد نہ کر سکا البتہ غلط اور بے بنیاد اعتراض کرتا رہا۔کبھی کہا مرزا صاحب نے اپنی کتابوں میں حوالے غلط دیئے ہیں۔کبھی پیشگوئیوں پر اعتراض کرتا اور کبھی بعض نشانات پر جنسی از اتا رہا۔چونکہ آخری تقریر مولوی اللہ دتا صاحب کی تھی اور مخالف فریق اپنی کمزوری دوران مباحثہ میں اچھی طرح محسوس کر چکا تھا اس لئے جب آخری تقریر شروع ہوئی تو شور مچا دیا گیا۔آخر کچھ دیر کے بعد جب شور دور ہوا تو مولوی صاحب نے اپنی تقریر ختم کی اور نہایت عمدگی کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت سامعین پر واضح کی۔ہر دو مناظروں