حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 188 of 923

حیاتِ خالد — Page 188

حیات خالد 194 مناظرات کے میدان میں دعا کے بعد یہ سند نیابت لکھ کر مجھے دی اور فرمایا کہ اسے پڑھ لو اور بٹالہ شبان المسلمین کے جلسہ میں جا کر نمائندگی کرو"۔میں اس سند کو پڑھ کر بے قابو ہو گیا تھا۔میں حیران تھا کہ یہ خواب ہے یا حقیقت! اللہ تعالیٰ کی کتنی ذرہ نوازی ہے۔کجا ضلع جالندھر کے ایک گاؤں کا حقیر ترین لڑ کا اللہ دتا اور کہا یہ عزت و اکرام کہ خلیفہ وقت کی نمائندگی کی سند مل رہی ہے۔واضح رہے کہ میں نے زندگی میں کبھی بھی اس بات کو نہیں بھلایا کہ جو کچھ فضل و احسان ہو رہا ہے یہ سب میرے مولا کریم کی موہت ہے۔اس کی رحمانیت ہے۔میری کوئی خوبی یا قابلیت نہیں ہے۔آج بھی اس تحریر کے وقت میں اسی یقین سے پر ہوں۔اس کے بے پایاں احسانوں کو یاد کر کے اس کے آستانہ پر سجدہ ریز ہوں - رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ - (الفرقان : اپریل ۱۹۷۵ء : صفحه ۴۴، ۴۵) روز نامہ الفضل قادیان نے اس مناظرہ کی رپورٹ ذیل میں شائع کی :- چند روز ہوئے بٹالہ میں اہلحدیثوں سے مناظرہ اور احمدیت کی شاندار فتح جماعت احمدیہ بٹالہ کو مقامی انجمن الحدیث نے مناظرہ کا پہینچ دیا تھا جسے منظور کر لیا گیا اور تصفیہ شرائکہ کے بعد قرار پایا کہ ۲۹ ۳۰ / جون (۱۹۳۱ ء ) حیات و ممات مسیح ناصری اور صداقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر مناظرہ ہو۔۲۹ جون چار بجے کی ٹرین پر قادیان سے مبلغین جماعت احمد یہ اور دوسرے اصحاب زیر امارت جناب میر قاسم علی صاحب بٹالہ روانہ ہوئے۔ارد گرد کے دیہات کے احمدی بھی آگئے اور احمدیوں کا انداز اڈیڑھ ہزار کا مجمع ہو گیا۔ساڑھے پانچ بجے وفات مسیح پر گلاب خانہ قاضیاں میں مناظرہ شروع ہوا۔ہماری جماعت کی طرف سے مولانا محمد یار صاحب مولوی فاضل مناظر تھے اور اہلحدیثوں کی طرف سے مولوی محمد یوسف صاحب امرتسری۔پہلے میں منٹ مولوی محمد یوسف صاحب نے بحیثیت مدعی تقریر کی۔جس کے جواب میں مولوی محمد یا ر صاحب نے ۲۰ منٹ تک ایسی مدلل اور مشرح تقریر کی کہ نہ صرف مخالف کے تمام اوہام باطلہ کا رد کر دیا بلکہ بیس کے قریب وفات مسیح کے دلائل بھی پیش کئے۔اس کے بعد ڈیڑھ گھنٹہ پندرہ پندرہ منٹ تقریریں ہوتی رہیں۔اس دوران میں مخالف مناظر وفات مسیح کی کسی ایک دلیل کو بھی توڑنہ سکا اور مولوی محمد یار صاحب ہر بار اپنے دلائل میں اضافہ کرتے گئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس مناظرے کا لوگوں پر نہایت اچھا اثر ہوا۔مولوی محمد یوسف صاحب نے اپنی آخری تقریر میں بجائے