حیاتِ خالد — Page 177
حیات خالد 183 مناظرات کے میدان میں اِدھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارنے شروع کئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں اور مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ والے اشتہار کو پیش کر کے اعتراضات کرنے شروع کر دیئے۔کبھی کہتے مرزا صاحب کو مختلف زبانوں میں کیوں الہام ہوئے۔نبی کو تو قوم کی زبان میں الہام ہوتا ہے۔مولوی اللہ دتا صاحب نے پیشگوئیوں پر اعتراضات کا جواب خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب سے پیش کر کے واضح کر دیا کہ مولوی محمد شفیع کے اعتراضات سراسر فضول ہیں۔مختلف زبانوں میں الہام کے متعلق یہ جواب دیا کہ یہ بتاؤ قوم سے مراد آپ کی قوم دعوت ہے یا کچھ اور۔اس کا جواب مولوی محمد شفیع صاحب آخر دم تک کوئی نہ دے سکے۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر میں قوم دعوت تسلیم کروں تو پھر مختلف زبانوں میں الہام ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ حضرت مرزا صاحب تمام اقوام کے موعود ہونے کے مدعی ہیں۔مولوی صاحب نے فرمایا پھر یہ بتائیے کہ سلیمان علیہ السلام کو پرندوں کی زبان میں کیوں الہام ہوتا تھا ان کی اپنی زبان تو کچھ اور تھی۔مولوی محمد شفیع صاحب نے جب ادھر سے بھی اپنا بجز مشاہدہ کیا تو یہ کہنا شروع کر دیا کہ مرزا صاحب مشرک تھے وہ خود خدا، خدا کا باپ اور بیٹا بننے کے مدعی تھے۔مولوی اللہ دتا صاحب نے ان تمام باتوں کا مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات سے ایسا دندان شکن جواب دیا کہ تمام حاضرین پر یہ امرکھل گیا کہ حضرت مرزا صاحب سچے موحد تھے۔خاکسار عصمت اللہ خان وکیل۔جنرل سیکرٹری انجمن احمد سید لائل پور الفضل ۲۹ نومبر ۱۹۳۰ء صفحه ۸،۷) ۱۳۱ دسمبر ۱۹۳۰ء ، یکم جنوری ۱۹۳۱ء دو یوم موضع موضع کر والیاں میں کامیاب مناظرہ کر والیاں ( متصل دھرم کوٹ بلکہ ) میں احمدیوں اور غیر احمدیوں کا مناظرہ ہوا۔ہماری طرف سے مولوی اللہ دتا صاحب، مولوی محمد یا ر صاحب اور مولوی عبد الغفور صاحب مناظر تھے اور غیر احمدیوں کی طرف سے مولوی نورحسین صاحب، مولوی محمد امین صاحب اور مولوی عبدالرحیم صاحب۔مناظرہ تین مضامین پر تھا۔(1) ختم نبوت (۲) صداقت مسیح موعود علیہ السلام۔(۳) حیات و ممات حضرت حضرت مسیح علیہ السلام خدا تعالی کے فضل و کرم سے احمدی مناظروں کو تینوں مضامین کے بیان کرنے اور ان کے جواب