حیاتِ خالد — Page 174
حیات خالد 180 مناظرات کے میدان میں کیا۔مخالف مولوی صاحب نے پیش کردہ باتوں میں سے ایک کو بھی نہ چھوا۔تین دن کے مناظرہ نے جتوئی کی پبلک پر یہ بات بخوبی کھول دی کہ دلائل اور براہین کے لحاظ سے احمدیوں کا پلہ بہت بھاری ہے۔ڈاکٹر عبدالحمید صاحب سب اسسٹنٹ سرجن بہت شکریہ کے مستحق ہیں کہ وہ باوجود غیر احمدی ہونے کے بڑی محبت کے ساتھ پیش آئے۔جتوئی کے وٹرنری ڈاکٹر ایک عیسائی ہیں وہ بھی مناظروں میں حاضر ہوتے رہے۔غیر احمدی مولویوں کی مخالفت اور جوش کو دیکھ کر ایک بار ڈاکٹر صاحب کہہ اٹھے کہ سخت حیرانگی ہے کہ یہ لوگ احمدیوں کی مخالفت کرتے ہیں حالانکہ ان کو احمدیوں کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔اگر احمدی نہ ہوتے تو ہم (عیسائی) کب کے مسلمانوں کو عیسائی بنا لیتے۔۱۲ جولائی کو احمدی احباب کے زیر انتظام زیر صدارت جناب مولوی اللہ دتا صاحب کا نگریس کے خلاف تقریریں کی گئیں۔خاکسار ملک عزیز محمد احمد پلیڈ ر علی پور ضلع مظفر گڑھ (الفضل ۲۴ ؍ جولائی ۱۹۳۰ء) مناظرہ بھنگواں مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری، مولوی اللہ دتا صاحب جالندھری اور مولوی محمد یا ر صاحب ۲۶ ستمبر کو بھنگو اں ضلع گورداسپور مناظرہ پر گئے ہیں۔قادیان سے اور بھی بہت سے احباب شامل ہو رہے ہیں۔الفضل قادیان : ۲۷۰ ستمبر ۱۹۳۰ صفحا: کالم نمبر از سرعنوان هدیه امسیح جلد ۸ نمبر ۳۹) مولانا اللہ دتا صاحب ومولانا محمد یا ر صاحب مونگ ضلع گجرات سے مباحثہ مونگ ضلع گجرات ایک کامیاب مناظرہ کرنے کے بعد واپس قادیان پہنچ گئے ہیں مباحثہ پٹھان کوٹ (الفضل: ۱۲ را کتوبر ۱۹۳۰ء صفحہ اکالم نمبر : زیر عنوان مدینہ مسیح جلد ۱۸ نمبر ۴۷) یہاں اہل تشیع سے مناظرہ ہوا جس کی مختصر خبر الفضل نے یوں دی۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری ، مولوی اللہ دتا صاحب مولوی فاضل اور مولوی غلام رسول صاحب را جیکی شیعوں سے مناظرہ کیلئے پٹھان کوٹ تشریف لے گئے۔الفضل ارنومبر ۱۹۳۰ صفحه زیر عنوان مهر به مسیح) لائل پور میں غیر احمدیوں سے کامیاب مباحثہ اس مباحثہ کی کسی قدر تفصیلی روداد جو مکرم چوہدری عصمت اللہ خان صاحب جنرل سیکرٹری انجمن