حیاتِ خالد — Page 164
حیات خالد 170 مناظرات کے میدان میں علیہ السلام پر بحث شروع کر دی ہم نے اسے منظور کر لیا۔اب اگر وہ کفر و اسلام پر بحث کریں گے تو ہم بھی اسی پر بحث کریں گے۔چنانچہ اس طرح بحث کا پہلا وقت ختم ہوا۔جب پروگرام کا دوسرا حصہ شروع ہوا۔تو جناب امیر صاحب جماعت احمد یہ شہر سیالکوٹ سے جو اس وقت بحیثیت صدر تھے انہی صاحب نے دریافت کیا۔کیا آپ اس وقت مسئلہ کفر و اسلام پر گفتگو کرنے کے لئے تیار ہیں۔جناب امیر صاحب نے فرمایا ہاں ہم بالکل تیار ہیں۔بشرطیکہ شیخ مولا بخش صاحب تسلیم کر لیں اور لکھ دیں کہ مسئلہ ختم نبوت کو وہ ادھورا چھوڑتے ہیں۔شیخ صاحب پہلے تو یہ بات تسلیم کرنے سے بھی ہچکچائے لیکن بعد میں صاف طور سے اعلان کیا کہ ہم اس مسئلہ کو ادھورا ہی چھوڑتے ہیں۔مگر اس بات کو تحریر میں لانے کے لئے تیار نہ ہوئے اور کہنے لگے ہم آپ کے صدر کی اجازت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی تقریر میں اسے بھی شامل کر لیں گے۔اور نبوت حضرت مرزا صاحب پر ہی سلسلہ گفتگو شروع ہوا۔جناب مولوی اللہ دتا صاحب نے بار بار ۹ آیات قرآنیہ اور استدلال کی طرف توجہ دلائی لیکن میر مدثر شاہ صاحب کوئی جواب نہ دے سکے۔پھر علاوہ ان آیات کے مولوی صاحب نے بار بار حديث آنَا سَيِّدُ الْمُرْسَلِيْنَ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِيْنَ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے الہامات کے متعلق دریافت کیا کہ میر صاحب بتائیں ان کا کیا مطلب لیتے ہیں۔مگر انہوں نے بالکل جواب نہ دیا۔غیر مبائعین کا فرار اگرچہ آخری تقریران کی تھی گر آدھ گھنٹہ پہلے جلہ کو بند کرنا چاہا اور ہی آخری تقریر سے پہلی تقریر میں مسئلہ کفر و اسلام کو بیان کر کے جلسہ کو ختم کرنا چاہا۔چونکہ یہ سراسر پر فساد چال تھی اس لئے ہم نے اپنی آخری باری کی تقر می شروع کر دی۔غیر مبائعین سٹیج چھوڑ کر ایک طرف ہو کر باہمی گفتگو کرنے لگ گئے تا کہ شور مچ جائے اور لوگ ہماری تقریر نہ سن سکیں۔ان کی اس حرکت کو دیکھ کر ہمارے ایک بھائی نے بلند آواز سے کہا آپ نے مناظرہ کی آخری باریوں کو یہ کہہ کر چھوڑا تھا کہ نماز مغرب کا وقت ہو گیا ہے مگر اب جلسہ گاہ سے جاتے بھی نہیں اور شور مچا رہے ہیں تا کہ لوگ ہماری تقریر نہ سن سکیں۔مہربانی فرما کر یا تو تشریف لے جائے یا پھر مناظرہ کیجئے۔اس پر وہ چلے گئے بہر حال کافی تعداد سامعین میں کفر و اسلام کا مسئلہ نہایت عمدگی سے پیش کیا گیا۔جب تک ہمارے علماء کرام سیالکوٹ میں رہے غیر مباکین کو جرات نہ ہوئی کہ مناظرہ کا نام لیں۔لیکن جب / دیکھا کہ ہمارے علماء واپس چلے گئے ہیں تو اعلان کر دیا کہ میر مدثر شاہ صاحب کفر و اسلام اور نبی