حیاتِ خالد — Page 160
حیات خالد 166 مناظرات کے میدان میں والی مثال ہو گی۔خاکسار اللہ دتا جالندھری قادیان الفضل قادیان ۲۲ اکتوبر ۱۹۲۹ء صفحه ۹،۸) سری نگر میں پیغامیوں سے ہونے والے اس مباحثے کا ذکر مکرم ماسٹر نذیر احمد صاحب این محترم غلام رسول صاحب سری نگر کشمیر نے اپنے خاص انداز میں کیا ہے۔" مجھے بڑا شوق تھا کہ مناظرہ دیکھوں اس کیلئے میں نے عجب چال چلی۔میں نے مولوی عبداللہ صاحب کے گھر جا کر کہدیا کہ قادیان کے علماء کہتے ہیں لاہوری جماعت کی ہمت نہیں کہ قادیانی جماعت کے ساتھ مناظرہ کریں۔دو تین دن کے بعد میں شبہ وارہ چلا گیا اور وہاں باتوں باتوں میں کہہ دیا۔لاہوری کہتے ہیں، قادیانی جماعت کی ہمت نہیں ہمارے ساتھ مناظرہ کریں۔اس طرح چار پانچ چکروں میں دونوں جماعتیں مناظرہ کیلئے تیار ہو گئیں۔مولوی عبد اللہ وکیل کے ہاں اس وقت مدثر شاہ ٹھہرے ہوئے تھے۔دونوں اطراف نے شرائط مناظرہ ایک دوسرے کو پہنچا ئیں۔میری عمر اس وقت پندرہ سال تھی۔سری نگر کے حضوری باغ کے کھلے میدان میں جلسے کا انتظام کیا گیا تھا۔ایک ہندو شاید کوئی مجسٹریٹ تھا ٹائم ریکارڈنگ وغیرہ کیلئے مقرر ہوا۔ان دنوں خلیفہ عبدالرحیم صاحب مرحوم کشمیر کے ہوم سیکرٹری تھے۔دونوں جماعتوں کے لوگ بھی جمع ہو گئے۔ایک طرف مولوی مدثر شاہ اور مولوی عبداللہ وکیل بیٹھے ان کے سامنے کچھ تھوڑی سی کتابیں تھیں۔دوسری طرف بے شمار کتابیں لائن میں لگی ہوئی تھیں جن کے پاس پر و فیسر مولوی محمد اسماعیل صاحب بیٹھے تھے۔ابتداء میں مولوی اسماعیل صاحب نے مختصری تقریر کی۔اب انتظار تھا کہ سٹیج پر کون آئے گا۔کچھ منٹ گذرے کہ سٹیج پر ایک نوجوان آیا جو بمشکل مجھے ۲۰۰۱۹ سال کا معلوم ہوتا تھا (اس وقت حضرت مولانا کی عمر ۲۵ سال تھی۔مرتب) ڈاڑھی کے تھوڑے تھوڑے بال ظاہر ہوئے تھے اور مونچھوں کا سبز و بھی قدرے ہلکا سا نظر آ رہا تھا۔میں حیران ہوا کہ یہ نوجوان بھلا مولوی مدثر شاہ جس کی عمر اس وقت قریبا ۶۰ سال تھی اور مولوی عبد اللہ جو پچاس اور ساٹھ سال کی درمیانی عمر کے تھے کا کیا مقابلہ کرے گا۔میرے ساتھ دوسرے لوگ بھی قدرے متعجب تھے کہ یہ لڑکا بھلا کیا بولے گا۔بہر حال تقریر کا وقت ہوا تو پہلے مولوی میر مدثر شاہ صاحب نے اپنے انداز میں کچھ اعتراضات کئے۔وقت ختم ہونے کی گھنٹی بھی تو یہ لڑکا کھڑا ہوا۔ہم گھبرا گئے کہ یہ بچہ بھلا ان کے سامنے کیا بولے گا ؟ لیکن جب بولنے لگا تو ایسا لگا کہ کوئی شیر گرج رہا ہے۔ہر منٹ کے بعد ایک ڈگری گرم ہوتے گئے میں حیران اور مبہوت ان کو دیکھتار ہا کہ یہ کون