حیاتِ خالد — Page 148
حیات خالد 154 مناظرات کے میدان میں اعتراضات کے جواب قولہ : چونکہ ہدایت کامل آ گئی اس لئے اب آئندہ نبیوں کو آ کر کیا کرنا ہے؟ اقول وہی کرنا ہے جو تو رات کے بعد غیر تشریعی انبیاء بنی اسرائیل کرتے رہے۔حالانکہ تورات بنی اسرائیل کیلئے اس وقت کامل ہدایت تھی۔حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں : بعد تورات کے صدہا ایسے نبی بنی اسرائیل میں سے آئے کہ کوئی نئی کتاب ان کے ساتھ نہیں تھی۔پس ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ عادت اللہ ہی ہے کہ وہ اپنی کتاب بھیج کر پھر اس کی تائید اور تصدیق کیلئے ضرور انبیاء کو بھیجا کرتا ہے۔شہادۃ القرآن۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه نمبر ۳۴۰-۳۴۱) قولہ : آنحضرت رحمۃ للعالمین ہیں اب ہمیں کسی زحمت کی ضرورت نہیں۔اقول : ہم آنحضرت ﷺ کو سب جہانوں اور جہان والوں کیلئے رحمت مانتے ہیں۔حضور مومنوں ، صد یقوں کیلئے رحمت ہیں نبیوں کیلئے بھی رحمت ہیں۔یعنی آپ کی رحمت سے ہی وہ بھی حصہ پاتے ہیں اگر اجرائے نبوت نہ مانا جائے تو حضور نبیوں کیلئے رحمت کیسے ثابت ہوں گے۔قرآن مجید نے تو نبوت کو نعمت قرار دیا ہے زحمت بتانا آپ کا ہی کام ہے۔بنی اسرائیل میں موسیٰ علیہ السلام رحمت تھا تو کیا اب دوسرے غیر تشریعی نبیوں کو بنی اسرائیل نہ مانیں یا کم از کم رحمتہ للعالمین کے بعد کسی پیغمبر مثل موسیٰ و عیسی کو ماننے کی ضرورت نہیں؟ اگر ہے تو امتی نبی کے ماننے سے انکار کس بنا پر ؟ قوله: وَلِلْعَلَمِيْنَ بَشِيْرًا وَّنَذِيرًا آپ کل دنیا وزمانوں کیلئے بشیر ونذیر ہیں جو صاف ثابت کرتی ہے کہ آپ کا ہی سکہ نبوت اب تا قیامت جاری ہے۔(نقل مطابق اصل ) اقول : درست ہے مگر سکہ نبوت کے جاری ہونے کا ثبوت کیا ہے اگر اس سکہ کا اثر نہ ہو روپوں کا سکہ تو جاری ہے مگر روپے بند چه عجب؟ آپ کا سکہ نبوت جاری ہے اور ضرور جاری ہے اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:- وو بجز اس کے کوئی نبی صاحب خائم نہیں ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل ،، سکتی ہے جس کیلئے امتی ہونا لازمی ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۰) قولہ: ” پھر ارشاد ہوتا ہے آپ اللہ کا نور ہیں اور نور بھی کیا يَخْرُجُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ