حیاتِ خالد — Page 143
حیات خالد 149 مناظرات کے میدان میں پہلے مناظرے کی ذلت سے ڈاکٹر صاحب کچھ ایسے حواس باختہ تھے کہ فرمانے لگے جماعت سے مشورہ کر کے اطلاع دوں گا۔اصل میں بعض غیر مبائعین نے ڈاکٹر صاحب کو کہلا بھیجا اگر آپ نے مناظرہ کیا تو ہم آپ سے الگ ہو جائیں گے۔ایک احمدی نے جب ڈاکٹر صاحب سے کہا شر انکا طے ہو چکی ہیں پھر جماعت کے ساتھ مشورہ کے کیا معنی؟ تو ڈاکٹر صاحب حسب عادت آپے سے باہر ہو گئے اور کہنے لگے میں تم کو کان سے پکڑ کر باہر نکال دوں گا۔ناظرین اندازہ لگالیں ڈاکٹر صاحب کی علمی حالت وہ تھی خاکسار۔سیکرٹری تبلیغ انجمن احمد یہ کوہ مری اور اخلاقی یہ ہے۔( الفضل ۱۳ ستمبر ۱۹۲۹ء صفحه ۸) غیر مبائھین نے اپنی اس پیغامیوں کی غلط بیانیاں۔کوہ مری کے مباحثہ کی کیفیت تھلی ناکامی کو چھپانے کیلئے ”پیغام صلح میں اس مناظرہ کی من گھڑت روئداد شائع کر دی جس میں اپنی نام نہاد فتح اور احمدیوں کی شکست کا ذکر تھا۔اس کے جواب میں حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے تفصیل سے مباحثہ کوہ مری کے حالات الفضل میں شائع کروائے جو یہ ہیں۔قلم در کف دشمن۔گزشتہ دنوں کوہ مری اور سرینگر میں غیر مباکھین سے مباحثات ہوئے جن کی رپورٹ ”پیغام صلح ۳۰ ستمبر اور ۳۰ ستمبر میں شائع ہوئی ہے۔پہلی رپورٹ تو خود پیغامی مناظر کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے اور مؤخر الذکر روئداد کو قاری نورالدین کے قلم کا شرمندہ احسان بتایا گیا ہے۔ان رپورٹوں میں جس بے دردی کے ساتھ انصاف کا خون کیا گیا اس کے لحاظ سے قلم در کف دشمن کا بہترین موقعہ یہی معلوم ہوتا ہے۔میں حیران ہوں جو لوگ ان مناظروں میں شامل تھے وہ اہل پیغام کی ان حرکات کو دیکھ کر اسلام کے ان اجارہ داروں کے متعلق کیا خیال کریں گئے۔”پیغام صلح کی اشاعت ۳۰ ستمبر کے سرورق پر لکھا ہے " آج کل اختلافی مسائل میں جو طرز عمل ہمارا ہو جاتا ہے اس کو دشنام دی، گندہ دہنی اور تہمت و الزام تراشی کے سوا اور کسی نام سے موسوم نہیں کیا جا سکتا اور میں علی وجہ البصيرة کہہ سکتا ہوں اہل پیغام اس مرض مہلک کا شکار ہورہے ہیں۔مناظرات میں فقدان علم کے باعث جو حرکات ان سے صادر ہوتی ہیں وہ بجائے خود ان کی تہذیب و شرافت پر ماتم کناں ہوتی ہیں اور پھر رپورٹ میں جس رنگ میں حریف غالب کی طرف بمرات ومرات لفظ کشکست کو منسوب کر کے دل کا بخار نکالا جاتا ہے اسے دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ شاید بقول غالب " ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندہ