حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 111 of 923

حیاتِ خالد — Page 111

حیات خالد 117 مناظرات کے میدان میں شیخ محمد یوسف صاحب جناب حافظ ( روشن علی) صاحب اور مولوی اللہ دتا صاحب کے تو لوگ خاص طور سے مداح ہیں اور اکثر کہتے ہیں کہ ایسی تقریریں سننے کا کم اتفاق ہوا ہے۔بلکہ بعض تو کہتے ہیں اس دفعہ ہی ایسی معلومات سے پُر تقاریر سنی ہیں۔مناظر کی حیثیت سے تو مولوی اللہ دتا صاحب کا خاص سکہ بیٹھ گیا ہے۔پبلک کا خیال ہے کہ احمدی مناظر کا وفات مسیح اور ختم نبوت کے مضامین کے دلائل کا کوئی جواب نہیں دیا جا سکا۔الراقم صاحب دین سیکرٹری تبلیغ جماعت احمدیہ گوجرانوالہ ) ( الفضل یکم اکتو بر ۱۹۲۶ صفحه ۸ ) محترم عبد الحمید صاحب عاجز قادیان سے لکھتے ہیں:۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کو خاکسار ۳۳ ۱۹۳۴ء سے جانتا ہے جبکہ خاکسار بٹالہ میں میٹرک کا طالب علم تھا۔اور محترم مولوی صاحب مرحوم بٹالہ غالباً پہلی مرتبہ ایک مناظرہ کے لئے تشریف لائے تھے۔یہ مناظرہ اہلحدیث کے ایک مشہور عالم مولانا محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی کے ساتھ طے پایا تھا۔مولانامحمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے اپنی تقریر کی ابتداء میں مکرم مولوی صاحب کو ایک کم عمر اور ناتجر به کار نوجوان خیال کرتے ہوئے تمسخر اور حقارت کے انداز میں بیان کیا کہ ان کے مقابل پرسید سرور شاہ صاحب یا کوئی اور تجربہ کار ان کے ہم پلہ عالم مناظرہ کے لئے آنا چاہئے تھا۔جس کے جواب میں محترم مولانا نے اپنی تقریر میں جنگ بدر میں ابو جہل کے دو نو جوان انصاری لڑکوں کے ہاتھوں قتل کئے جانے کا حوالہ دے کر ان کو ساکت کر دیا۔حضرت مولانا کے دور میں ہماری جماعت کے تین علماء کرام کو جماعتی مناظروں میں حصہ لینے کا اکثر موقع ملتا رہا جن میں سے محترم ملک عبدالرحمن صاحب خادم مرحوم کافی تیز اور بعض اوقات مخالف کا منہ بند کرنے کے لئے اینٹ کا جواب پتھر سے بھی دیا کرتے تھے۔اسی طرح جماعت کے ایک دوسرے مشہور عالم اور مناظر محترم مولوی محمد سلیم صاحب آف کلکتہ کے مناظرے بھی مقابل کے لئے دندان شکن ہوا کرتے تھے۔مگر محترم مولانا ابوالعطاء صاحب مرحوم کے مناظرہ کا انداز شاذ ہی جارحانہ ہوتا۔آپ ہمیشہ مخالف کی یاوہ گوئی کو نظر انداز کرتے ہوئے اصل مضمون کے حق میں اپنے نکتہ نظر کی ٹھوس اور پختہ دلیل و برہان سے وضاحت پر اکتفا کیا کرتے تھے۔