حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 106 of 923

حیاتِ خالد — Page 106

حیات خالد 112 مناظرات کے میدان میں ازاں آٹھ گھنٹے تک وہ باہوش و حواس زندہ رہے۔پنڈت دھرم بھکشو کا یہ کہنا کہ آدمی بھیج کر قتل کروادیا تھا یہ صریح غلط ہے۔عقلی بحث کے علاوہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پینج سراج منیر کتاب سے پڑھ کر سنایا اور پنڈت صاحب کو اس کے مطابق حلف اٹھانے کی پر شوکت الفاظ میں دعوت دی۔پنڈت صاحب مناظرہ میں بہت عاجز اور درماندہ ہو رہے تھے تین گھنٹے مقررہ میں سے غالبا ڈیڑھ گھنٹہ ہی گفتگو ہوئی تھی کہ انہوں نے کہا کہ مجھے ابھی تار ملا ہے مجھے فرملیر میل سے ناگپور جانا ضروری ہے خواہ آپ میری شکست سمجھیں مگر میں مجبور ہوں میں آپ سے معافی چاہتا ہوں۔میں نے کہا کہ مذہبی مناظرات میں فتح و شکست کا کیا سوال ہے باقی لوگ اندھے تو نہیں انہیں سب کچھ نظر آ رہا ہے۔اگر آپ مجبور ہیں اور آپ معافی مانگتے ہیں تو اگر چہ آریوں کا ایشور تو معاف نہیں کیا کرتا ہمارا رب معاف کر دیتا ہے اس لئے ہم معاف کرتے ہیں۔یہ جواب جس میں آغاز جوانی کی شوخی بھی پائی جاتی تھی پنڈت جی کو بہت چبھا اور انہوں نے کہہ دیا کہ پھر میں معافی نہیں مانگتا۔میں نے کہا کہ پھر ہم آپ کو جانے نہ دیں گے پورا مقررہ وقت مناظرہ کریں ہم بارش میں قادیان سے آئے ہیں۔اس مرحلہ پر پھر آریہ سماجی صدر آڑے آئے اور انہوں نے اٹھ کر کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ پنڈت صاحب کا جانا ضروری ہے اور میں آپ سے معافی مانگتا ہوں اب مناظرہ بند کر دیا جائے۔ان کے اس شریفانہ انداز پر خوشگوار طریق پر مناظرہ ختم ہو گیا۔الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ۔اب کیا تھا احمدیوں کی خوشی کا کیا کہنا۔غیر احمدی مولوی صاحبان اور دوسرے لوگ بھی چاروں طرف سے مبارکباد دے رہے تھے اور پھولوں کے ہار لئے آئے اور انتہائی خوشی کا اظہار کیا گیا۔میری روح اپنے رب کریم کے آستانہ پر بہہ رہی تھی کہ اس نے کس طرح ایک تا چیز محض سے اسلام واحمدیت کی تائید میں یہ کام لیا۔کچھ عرصہ بعد حضرت میر قاسم علی صاحب امرتسر گئے تو لوگوں نے جو کوائف انہیں بتائے انہوں نے اس کی بناء پر ایک نظم لکھی اور انہی دنوں اپنے ہفت روزہ فاروق میں شائع کی تھی۔وَاخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ - (الفرقان ربوہ اپریل ۱۹۶۹ء صفحه ۳۹ تا ۴۷) مری میں غیر مبائعین سے تاریخی گفتگو (۲۵-۱۹۲۶ء) محترم شیخ عبدالقادر صاحب (سابق سوداگر مل) نے اپنی مشہور کتاب حیات نور میں حضرت مولانا صاحب کی بالکل ابتدائی زندگی کا ایک نہایت دلچسپ مناظرہ