حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 103 of 923

حیاتِ خالد — Page 103

حیات خالد 109 مناظرات کے میدان میں بارش ہوئی اور گلی کوچے پانی سے بھر گئے اس دن کا اس لگنے کا سوال ہی نہ تھا مگر میں بر وقت کلاس میں پہنچا اور حضرت حافظ صاحب کو اطلاع دی جو اوپر کی منزل میں رہتے تھے۔بہت ہی محبت کرنے والے استاد تھے، ہنستے ہوئے اترے اور فرمایا کہ تم کس طرح جاؤ گے میں نے کہا کہ آپ نے رخصت نہیں دی اب پہلے پڑھائی ہو جائے۔پھر کلاس روم میں بیٹھ کر مجھ سے دریافت کیا کہ اب کیا پروگرام ہے؟ میں نے عرض کیا کہ آپ بے فکر رہیں میں انشاء اللہ بروقت پہنچ جاؤں گا۔میں صرف تہہ بند باندھ کر پانی میں سے پیدل بٹالہ پہنچوں گا وہاں سے امرتسر کی گاڑی لے لوں گا (ان دنوں ابھی قادیان میں ریل نہ تھی پھر دریافت فرمایا کہ آریوں سے صداقت مسیح موعود علیہ السلام پر بحث کس طرح کرو گے ؟ میں نے بتایا کہ پہلے میں رگوید کا منتر پیش کروں گا جس میں ذکر ہے کہ پر میشور چوں کی نصرت کرتا ہے پھر قرآن مجید سے إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ آمَنُوْا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا (مومن :۵۲) کی آیت پیش کروں گا اور اس اصول صداقت کو واضح کر کے آریہ مناظر کو اس پیشگوئی کی طرف لے آؤں گا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پنڈت لیکھرام کے متعلق فرمائی تھی۔حضرت حافظ صاحب اس پر بہت خوش ہوئے ، دعا فرمائی اور مجھے رخصت فرمایا۔میں روانگی کی تیاری کر رہا تھا کہ آٹھ نو بجے دھوپ نکل آئی اور آسمان صاف ہو گیا۔میں بارہ بجے اڈہ پر گیا کہ شاید ڈاک والے یکہ میں جگہ مل جائے مگر بات نہ بنی۔پھر پیدل روانہ ہونے کی نیت سے ظہر کے قریب گھر سے نکلا مسجد مبارک میں نماز ادا کی اور میں ابھی اڈہ پر پہنچا ہی تھا کہ ایک لاری پانی چیرتی ہوئی وہاں پہنچی اور ڈرائیور نے کہا کہ میں نے ایک شخص کو پیغام دیگر ابھی واپس بٹالہ جانا ہے اس طرح اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی سامان مہیا فرما دیا اور میں گاڑی سے پہلے ہی بٹالہ سٹیشن پر پہنچ گیا۔فالحمد لله ހރ بارش کی وجہ سے سواریاں بہت کم تھیں۔گاڑی بھی کچھ لیٹ تھی۔انٹر کے ڈبہ میں میں اکیلا ہی تھا۔گاڑی امرتسر کیلئے روانہ ہوئی میں نے زاری سے دعا شروع کی۔غنودگی طاری ہوگئی اور زبان پر آیت کریمہ وَلَوْ تَوَاعَدْتُمْ لا تختلفتُمْ فِي الْمِبْعْدِ وَلَكِنْ لِيَقْضِيَ اللهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولًا (انقال: ۴۳) جاری ہو گئی اور دل پر سکینت نازل ہوگئی۔امرتسر میں احباب جماعت بے چین تھے کہ بارش شدید ہوئی ہے شاید ابو العطاء نہ پانچ سکے جونہی گاڑی سٹیشن پر رکی اور میں نے کھڑکی سے سر باہر نکالا احباب بہت خوش ہوئے اور اللہ تعالی کا شکر ادا کیا۔تانگہ میں بیٹھے اور سید ھے آریہ مندر پہنچے صرف راستہ میں ایک ہوٹل