حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 864 of 923

حیاتِ خالد — Page 864

حیات خالد 845 گلدسته سیرت پوتیوں اپنے بچوں سے اس قدر شدید محبت کر ہی نہیں سکتے۔مجھے یاد ہے کہ جب میں تقریبا چھ سال کی تھی اور میرا چھوٹا بھائی عطاء الحبیب خالد چار سال کا اور سب سے چھوٹا بھائی عطاء الاعلیٰ ظفر چند ماہ کا تھا۔۱۹۶۹ء کا زمانہ تھا اور گرمیوں کا موسم تھا۔ابو جان ( عطاء الکریم صاحب شاہد ) مبلغ کے فرائض مری میں ادا کر رہے تھے۔بڑے ابا جان بڑی امی جان مع دو پھوپھیوں کے ہمارے پاس چند دن گزارنے کے لئے تشریف لائے۔ان کا آنا ہمارے لئے مجھے آج بھی یاد ہے کہ جیسے ویرانے میں بہار کا آنا تھا۔ہم بچے خوشی سے بے حال تھے۔گرمیوں میں شاید ۱۹۷۳ء کی بات ہے بڑے ابا جان ہمارے پاس کیمبل پور تشریف لائے تو چھٹیاں ہونے کی وجہ سے میں پھر ان سب کے ساتھ ربوہ آ گئی۔کیمبل پور واپس جانے سے ایک دن پہلے کا ذکر ہے کہ ہم سب باورچی خانے میں تھے کہ دیکھا بڑے ابا جان آرہے ہیں اور ہاتھ میں ایک بہت خوبصورت پرنٹ کا زنانہ کپڑے کا پیکٹ ہے۔اور ہم سب یہ دیکھ رہے تھے کہ یہ کس کے لئے آیا ہے۔بڑے ابا جان میرے پاس آکر رک گئے اور وہ پیکٹ میرے ہاتھ میں دے دیا کہ یہ تمہارے لئے لایا ہوں۔اس قدر خوشی اس وقت ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔بڑی امی جان آج بھی یہ واقعہ دھراتی ہیں تو کہتی ہیں کہ تمہارے بڑے ابا جان اپنی پوتیوں سے بہت پیار کرتے تھے۔پھر مئی ۱۹۷۴ء کا زمانہ بھی آیا جب ہم کیمبل پور میں چاروں طرف سے خطروں میں گھرے ہوئے تھے۔ایسے وقت میں بڑے ابا جان کے خطوط ہم سب کے لئے بہت تسلی اور ڈھارس کا باعث ہوتے تھے اور ہم بڑے ابا جان کے خط کا شدت سے انتظار کیا کرتے تھے۔دو ماہ ہم نے تقریبا قید کی سی حالت میں گزارے پھر بڑے ابا جان کا مخط آیا کہ میں بہت دعائیں کر رہا ہوں با سطہ اور بچوں کو لے کر آ جاؤ اور پھر واپس چلے جانا۔انشاء اللہ سب خیریت رہے گی۔اس خط کے بعد کوئی چارہ نہ تھا۔ہم سب کو لے کر ابو جان رات کے اندھیرے ایک احمدی دوست مکرم سردار سلطان رشید خان صاحب رئیس کوٹ فتح خان کی کار میں ربوہ چھوڑ کر واپس چلے گئے۔گو کہ بڑے ابا جان ہمارا بے حد خیال رکھتے تھے اور بے حدد لجوئی کرتے تھے لیکن دن رات ابو جان کی فکر تھی۔میں اپنی حساس طبیعت کے باعث بہت ہی تکلیف میں تھی۔نہ دن کو چین تھا نہ رات کو آرام صحت پر بہت برا اثر پڑ رہا تھا بڑے ابا جان ہر طرح سے دل پہلاتے۔گھر میں چونکہ اور بچے پھوپھو کے تھے ابو کے چچا جان کے بچے تھے راشد چچا جان کے بچے تھے۔رونق تو خوب تھی۔بڑے ابا جان نے ہر جمعے کے روز بچوں کے مقابلہ جات کروانے شروع کئے