حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 857 of 923

حیاتِ خالد — Page 857

حیات خالد 838 گلدسته سیرت تھا۔جب برادرم مولوی عنایت اللہ صاحب جالندھری مرحوم جو دوسری جنگ عظیم سے پہلے سنگا پور وغیرہ گئے تھے اور جنگ کے بعد واپس آئے ( آپ سلسلہ کی طرف سے بطور باضابط مبلغ نہیں بھجوائے گئے تھے بلکہ اس طرح سے بھجوائے گئے تھے کہ کام بھی کرو اور تبلیغ بھی کرد ) تو حضرت مولانا صاحب نے ایک دکان کرایہ پر لی جس کا بہت تھوڑا کر ا یہ تھا اس میں بہت معمولی منیاری وغیرہ کا سامان (جو ۱۹۴۶ء میں شاید سود و سو روپیہ کا ہوگا ) ڈالا اور مولوی عنایت اللہ صاحب کو اس میں بٹھا دیا۔حضرت مولانا فارغ وقت میں خود اس دکان پر اپنے بھائی کے ساتھ ضرور روزانہ تشریف فرما ہوتے تھے تا کہ بھائی احساس کمتری میں مبتلا نہ ہو اور اس بات کی ہرگز پرواہ نہ کی اور نہ ہی ہونی چاہئے ) کہ جماعت میں میرا کیا مقام اور عزت ہے اور میں کتنی چھوٹی سی دوکان پر بیٹھا ہوں۔لکھنے کا مطلب یہ ہے کہ بھائی کا حوصلہ بڑھانا اور تکبر کو قریب بھی نہ پھٹکنے دیا تو آپ کی مومنانہ شان تھی۔اللہ تعالی کی ہزاروں رحمتیں آپ پر نازل ہوتی رہیں۔آمین۔اسی طرح آپ اپنے ماموں جان حضرت ڈاکٹر محمد ابراہیم صاحب رضی اللہ عنہ جو آپ کے خسر بھی تھے اور اپنے ماموں زاد بھائیوں جو برادر نسبتی بھی تھے ملک محمد مستقیم صاحب ایڈووکیٹ، محترم مولوی محمد دین صاحب اور مکرم ملک محمد حنیف صاحب مرحوم سے بھی بہت پیار کا سلوک فرمایا کرتے تھے۔مکرمہ قانتہ شاہدہ صاحبہ اہلیہ مکرم عطاء الجيب راشد صاحب لکھتی ہیں:۔میرے بی۔اے کے امتحانات کا واقعہ ہے۔اس وقت میری امی جان شدید بیمار تھیں۔اس وجہ سے میں پوری طرح تیاری بھی نہ کر سکی ، اس لئے بہت فکر مند تھی۔میرے ابا جان حضرت قاضی محمد رشید صاحب مرحوم تو دعا کر ہی رہے تھے۔امتحان کے لئے جانے سے پہلے میں خالو جان ( حضرت مولانا ابو العطاء صاحب) کی خدمت میں بھی دعا کی درخواست کرنے کے لئے ان کے پاس گئی۔انہوں نے بہت تسلی دی۔فوراً وضو کے لئے لوٹا ہاتھ میں لیا اور فرمانے لگے تم فکر نہ کرو۔امتحان کے لئے جاؤ میں ابھی وضو کر کے تمہارے لئے نکل پڑھتا ہوں اور دعا کرتا ہوں۔جب میرا ایم۔اے کا نتیجہ نکلا تو احمدیوں کی مخالفت کی بناء پر مجھ سے نا انصافی کی محبت و شفقت گئی اور خلاف توقع میری یونیورسٹی میں اول پوزیشن نہ آئی (اس کا ذکر حضرت خلیلة أصبح الثالث نے شوری ۱۹۶۷ء میں فرمایا تھا) چند ماہ قبل میرے ابا جان کا وصال ہوا تھا۔اس وجہ سے مجھ پر کچھ زیادہ ہی اثر ہوا اور میں بہت مغموم تھی۔خالو جان کو پتہ لگا تو ہمارے گھر تشریف لائے۔