حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 835 of 923

حیاتِ خالد — Page 835

حیات خالد 824 گلدسته سیرت اللہ تعالی کے فضل سے پہلی جماعت سے لے کر بی اے تک اپنی کلاس میں اول آتی رہی۔ہر کامیابی پر ابا جان کی محبت بھری دعا ئیں میرا حوصلہ بڑھاتی رہیں۔مجھے شروع سے گھر میں پھول وغیرہ لگانے کا شوق تھا۔گلاب موتیا وغیرہ میں نے گھر میں لگایا تھا۔ان پودوں کو پانی وغیرہ دیتے ہوئے دیکھ کر ابا جان بہت خوش ہوتے۔ایک دفعہ میں نے ذکر کیا کہ سرخ پھولوں والی بیل بہت اچھی لگتی ہے۔چند دن بعد آپ نے فیصل آباد سے اس کا پودا منگوایا۔مجھے بلایا اور فرمایا کہ بتاؤ اسے کہاں لگا ئیں۔میں نے کہا برآمدے کے کونے والی جگہ ٹھیک رہے گی۔اسی وقت کسی آدمی کو بلوا کر زمین کھدوائی اور پودالگواد یا میں اسے پانی دیتی اور دھیان رکھتی۔دیکھتے ہی دیکھتے اس پودے نے بیل کی شکل اختیار کر لی اور پھول لگنے شروع ہو گئے۔اکثر اسے دیکھ کر خوش ہوتے۔یہ بیل کافی دور تک پھیل گئی تھی۔جب میں اپنی شادی کے فورا بعد لیبیا چلی گئی تو امی جان بتاتی ہیں کہ تمہارے ابا اسے خود با قاعدہ پانی دیتے کہ یہ میری بیٹی نے شوق سے لگائی تھی۔میں دسویں جماعت میں تھی جب حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ نے یہ اعلان فرمایا کہ میٹرک، ایف اے اور بی اے میں دینیات کے امتحان میں اول آنے والی طالبہ کو نصرت جہاں گولڈ میڈل“ دیا جائے گا۔ظاہر ہے کہ سب کی خواہش تھی کہ یہ خوش قسمتی اسی کو ملے۔بہر حال د مینیات کا امتحان ہوا رزلٹ کا انتظار تھا۔باوجود شدید مصروفیات کے خصوصی اہمیت کے پیش نظر اس امتحان کے پرچہ جات حضرت سیدہ ام متین صاحبہ خود دیکھتی تھیں ایک دن ہم کلاس میں بیٹھی تھیں کہ ہماری کلاس ٹیچر نے آ کر ساری کلاس کو مبارک باد دی کہ آپ کے سیکشن کی لڑکی مجموعی طور پر چاروں سیکشنوں میں اول آئی ہے اور پھر مجھے مس نے مبارک دی۔میں بہت خوش تھی۔گھر پہنچتے ہی ابا جان کو بتانے کی بے چینی تھی۔اتنے میں ابا جان ظہر کی نماز کے لئے وضو کرنے کے لئے گھر تشریف لائے اور آتے ہی مجھے مبارک باد دی۔میں بہت حیران ہوئی کہ انہیں کیسے پتہ چلا کہ میں گولڈ میڈل کی حق دار بن گئی ہوں۔آپ میرے پاس بیٹھ گئے اور حضرت سیدہ ام متین صاحبہ کا مبارکباد کا خط دکھایا جو انہوں نے ابا جان کو لکھا تھا۔چند الفاظ مجھے ابھی بھی یاد ہیں۔حضرت سیدہ موصوفہ نے تحریر فرمایا تھا۔انا صحیح ترجمہ اس بچی نے قرآن شریف کا کیا ہے کہ دل سے بے اختیار اس کیلئے دعا نکلتی ہے"۔ابا جان بے حد خوش تھے۔اسی خط پر آپ نے تحریر فرمایا۔یہ مبارک باد کی سند ہزاروں اسناد کے برابر ہے اسے سنبھال کر رکھیں“۔