حیاتِ خالد — Page 811
حیات خالد 800 گلدستۂ سیرت اول و ثانی پر۔اور آپ کے مطاع پر۔آمین۔دسمبر ۱۹۸۰ء میں خاکسار ربوہ گیا تھا بہشتی مقبرہ میں حضرت مولانا کی قبر پر خاکسار گناہ گار نے دعا کی۔میری پیدائش ۳۸ راگست ۱۹۵۱ء کو ہوئی۔اس طرح اگر الفرقان حضرت مولانا مرحوم کا بیٹا بحیثیت روحانی وعلمی یادگار ہے تو میں الفرقان کا ہم عمر ہوں۔مجھے مولانا مرحوم کی کتب تحریر کو تلاش کر کر کے مطالعہ کی دھن لگی رہتی ہے۔دل چاہتا ہے کہ کاش وہ وقت بھی آجاتا کہ ۱۹۱۸ء سے ۱۹۷۷ ء تک جتنی بھی شائع شدہ تحریریں یا تقریریں ہیں انہیں مکمل شائع کر کے کتابی صورت میں محفوظ کر لیا جاتا۔خیر یہ تو بہت ہی بظاہر مشکل امر ہے مگر خدا تعالٰی کے لئے کوئی بات ناممکن نہیں بے اختیار الفاظ لکھ رہا ہوں۔عجیب جذبات سے مغلوب ہوں۔حروف خراب ہیں۔باتیں بہت باقی ہیں۔مکرم منشی مبشر احمد صاحب دار الرحمت وسطی ربوہ حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب سے اپنی محبت وعقیدت کا انداز یوں بیان کرتے ہیں:۔”میرے پاس ایک گروپ فوٹو ہے جس میں حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب، حضرت مولانا قاضی محمد نذیر صاحب لامکپوری ہیں۔اور دونوں صاحبان کے پیچھے محترم مولانا ابوالمنیر نورالحق صاحب ہیں۔صبح جب میں گھر سے نکلتا ہوں تو احمدیت کے درخشاں ستارے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی زیارت کر کے آتا ہوں۔یہ میری محبت اور ان کا احترام ہے۔اپنے جن پیاروں سے محبت ہو ان کی ایک ایک بات چاہے وہ عام سی بات کیوں نہ ہو، دل پر نقش ہو جاتی ہے۔ایسے ہی ایک تاثر کا اظہار مکرم مولانا جمیل الرحمن صاحب رفیق نے کیا ہے۔آپ لکھتے ہیں۔میں نے حضرت استاذی المکرم کو ہمیشہ مسکراتے ہوئے ہی پایا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے ان دنوں خاکسار کالج کا طالب علم تھا اور ابھی زندگی وقف نہیں کی تھی۔ان ایام میں ابھی مسجد محمود تعمیر نہیں ہوئی تھی۔اور کوارٹر تحریک جدید کے مکین اپنی نمازیں بالعموم دفاتر تحریک جدید کے کمیٹی روم میں ادا کیا کرتے تھے۔انہی دنوں حلقہ کوارٹرز تحریک جدید اور حلقہ گولبازار کا کوئی مشترکہ اجلاس ہونا تھا۔نماز عصر کے بعد گولبازار کے نمائندوں نے کمیٹی روم میں اس غرض کے لئے حاضر ہونا تھا۔جب معین وقت سے کئی منٹ زائد گزر گئے اور گولبازار والے نہ پہنچے تو حضرت مولانا صاحب موصوف ( جو غالبا ان دنوں صدر حلقہ تھے ) فرمانے لگے کہ اٹھ کر باہر دیکھیں کہ وہ لوگ آرہے ہیں یا نہیں ؟ اس پر عاجز اٹھا اور باہر