حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 793 of 923

حیاتِ خالد — Page 793

حیات خالد ,, 782 گلدستۂ سیرت مرحوم عالم باعمل اور نہایت خلیق انسان تھے۔ہر ایک کے ساتھ شفقت و ہمدردی غریبوں مسکینوں کی اعانت و دلجوئی فراخ دلی ، خندہ پیشانی ، شگفتہ مزاجی اور حاضر جوابی ان کے ممتاز اوصاف تھے۔نفاست پسند مگر سادہ طبیعت تھی اور مومنانہ فراست حاصل تھی۔پاکیزہ اور مضبوط کردار کے مالک تھے۔کبر و خود نمائی سے کوسوں دور غریب نواز اور امیر غریب کا لحاظ کئے بغیر حد درجہ ملنسار تھے۔اس کا نتیجہ یہ تھا کہ مقبول خاص دعام اور سب کے ہر دل عزیز تھے۔اور ہر دل عزیز رہیں گے ( انشاء اللہ تعالیٰ ) دعا گو عابد و زاہد تھے، سابق بالخیرات تھے، کسی چھوٹی سے چھوٹی نیکی اور خدمت انسانیت والے کام کی ادائیگی سے بھی نہیں چوکتے تھے۔اکثر لوگ بلکہ بعض عالم بھی بعض نیکیوں کو نوافل اور فرض کفایہ سمجھے کر ( بغیر کسی حقیقی عذر کے ) ان سے پہلوتہی کر کے ثواب سے محروم ہو جاتے ہیں لیکن مرحوم عموماً ایسے نیک مواقع کو ضائع نہیں جانے دیتے تھے بلکہ ہمیشہ مقدور بھر بالالتزام ان نظلی نیکیوں کو سرانجام دینے کی کوشش فرماتے تھے۔خاکسار نے اکثر دیکھا کہ صدمہ موت فوت کے موقع پر مقامی طور پر بھی یا با ہر سے کوئی جنازہ آتا تو محض زبانی تعزیت کو ہی کافی نہ سمجھتے تھے بلکہ نماز جنازہ میں شامل ہوتے اور جنازہ کے ساتھ قبرستان تک جاتے اور تدفین مکمل ہونے تک وہاں موجود رہتے جس سے غم رسیدہ افراد کے غم کا بوجھ کافی ہلکا ہو جاتا اور وہ بہت متاثر ہوا کرتے۔یہ حسین وصف آپ کے اندر بہت نمایاں تھا۔آپ کی یہ مبارک عادت آخر عمر میں بھی قائم رہی۔یہاں تک کہ اس وقت بھی جب مرحوم کے گھٹنوں میں درد کی تکلیف شروع ہوگئی تھی۔(الفضل ۵/ جون ۱۹۷۹ء ) محترم عبدالوہاب آدم صاحب امیر ومشنری انچارج گھانا (مغربی افریقہ ) رقم فرماتے ہیں:۔۱۹۵۹ء میں خاکسار کو محترم مولانا صاحب مرحوم کے ساتھ قادیان جانے کا موقع ملا۔دوران سفر میں نے حضرت مولانا صاحب سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا ہے؟ جس کا جواب، آپ نے نفی میں دیا۔چنانچہ یہی سوال میں نے حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی زیارت کے بارے میں کیا۔اس پر بھی آپ کا جواب نفی میں تھا۔اس سے مجھے بہت تعجب ہوا۔کیونکہ میرا ہمیشہ یہی تاثر پر سے مجھے ہے تھا کہ آپ صحابی حضرت مسیح موعود ہوں گے یا حضرت خلیفہ امسیح الاول کوتو کم از کم ضرور دیکھا ہوگا۔مکرم محمد ابراہیم حنیف صاحب دار العلوم غربی ربوہ لکھتے ہیں:۔خاکسار ۱۹۴۵ء میں جماعت نہم میں ٹی آئی ہائی سکول قادیان میں داخل ہوا۔رہائش دارالعلوم میں تھی۔حضرت مولوی صاحب بھی اسی محلہ میں رہائش رکھتے تھے۔مولوی صاحب محترم درمیانی نماز