حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 787 of 923

حیاتِ خالد — Page 787

حیات خالد 776 گلدستۂ سیرت وکلاں نہر کے ٹھنڈے پانی میں تیرا کی کرنے جاتا۔کھانا اور موسمی پھل ساتھ ہوتے۔پھلوں میں عموماً آم اور خربوزے ہوتے۔جو ہم بوریوں میں بند کر کے نہر کے ملحق کنویں میں لڑکا دیتے اور دو پہر تک وہ پھل اس قدر ٹھنڈے ہو جاتے کہ دو پہر کی تپتی دھوپ میں ان کی لذت کا اندازہ وہی صاحب ذوق کر سکتے ہیں جنہوں نے بھی بہتے صحرا میں ٹھنڈا پانی پیا ہو۔بہر حال جب ہم نہر پر پہنچتے تو کیا دیکھتے کہ احمدیت کا یہ درخشند و ستارہ ہم بچوں کے ساتھ نہر میں تیرا کی کے مقابلے نہ صرف کروا رہا ہے بلکہ سبقت لے جا رہا ہے۔واٹر والی بال کھیلا جارہا ہے اور تیرا کی میں حضرت مولانا کی مہارت کا یہ عالم تھا کہ وہ چوکڑی مارکر تیرتے تھے اور تیرنے والے جانتے ہیں کہ یہ کس قدر مہارت کا اور مشکل کام ہے۔بہر حال حضرت مولانا کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا کہ آپ اعلیٰ پایہ کے عالم زیادہ تھے یا عمد و قسم کے تیراک زیادہ تھے ایک مشکل کام تھا۔اس کھیل کود میں جب نماز ظہر کا وقت آ جاتا تو وہ شخص اکثر اوقات مومنین کا امام الصلوۃ ہوتا اور اس ٹرپ کے موقعہ پر مسائل امرونہی علم وفقہ اور دقیق روحانی نکات یوں حل ہو رہے ہوتے کہ جیسے وہ کوئی مشکل امر ہی نہیں۔تقسیم ملک کے بعد جب چنیوٹ اور احمد نگر تعلیم الاسلام سکول اور جامعہ احمدیہ کے مراکز بنے تو ان دنوں جب کہ ابھی ربوہ کی بنیاد میں نہیں رکھی گئی تھیں اور ہم احمدی طلباء آپس کے میل جول کے لئے چناب کے پل کو اپنا میٹنگ پوائنٹ (Meeting Point) بنائے ہوئے تھے۔تو کبھی کبھی یہ بھی ہوتا کہ جامعہ والے ہائی سکول والوں کو احمد نگر آنے کی دعوت دیتے۔کچے گھروں میں صفیں بچھا دی جاتیں اور ہم دور و یہ بیٹھ جاتے۔اس دعوت میں جامعہ احمدیہ کے پرنسپل حضرت مولانا ابو العطاء صاحب بھی تشریف فرما ہوتے اور پھر حضرت مولانا صاحب نہایت پر لطف انداز میں احرار اور دیگر معاندین سلسلہ سے مباحثوں کی تفصیلات بیان فرماتے اور یوں باتوں ہی باتوں میں ایسے ایسے مسائل حل ہو جاتے جس کے حل کے لئے ایک عام طالب علم کو ہفتوں کتابوں کی ورق گردانی کرنی پڑتی اور ہماری یہ انتہائی سادہ ہی دعوت شاہوں کے دستر خوان کو مات کر دیتی اور اس کام کا تمام تر سہرا حضرت مولانا صاحب کے سر ہوتا۔مکرم اعداد الرحمن صاحب صدیقی مربی سلسلہ لکھتے ہیں :- فضل عمر درس القرآن کلاس ربوہ میں آپ کی زندگی میں نظارت اصلاح وارشاد تعلیم القرآن کے زیر اہتمام ہوتی تھی۔آپ اکیلے ہر قسم کی نگرانی فرماتے جس سال آپ برطانیہ گئے اس سال سے عمرانی کمیٹی بنی شروع ہوئی۔