حیاتِ خالد — Page 74
حیات خالد 78۔اساتذہ کرام شخصیت ہیں۔ان کے شاگردوں کے ذریعہ بہت لمبے زمانہ تک خدمت دین کا ثواب ان کے نامہ اعمال میں بھی درج ہوتا رہے گا۔حضرت میر صاحب کا درس حدیث ایک خاص رنگ رکھتا تھا جس سے ساری جماعت روحانی غذا حاصل کرتی تھی۔اس درس کی ایک بات جس کو سن کر بارہا آنکھیں اشکبار ہو جاتی تھیں اور دل پیچ جاتے تھے وہ یہ تھی کہ حضرت میر صاحب باوجود یکہ آپ سادات کے معروف خاندان کے ایک نمایاں فرد تھے۔آپ کے خاندان کے ایک بزرگ خواجہ محمد ناصر صاحب کو حضرت امام حسن نے رویا میں بھی فرمایا تھا کہ : - نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خاص اس لئے تیرے پاس بھیجا تھا کہ میں تجھے معرفت اور ولایت سے مالا مال کروں۔یہ ایک خاص نعمت تھی جو خانوادہ نبوت نے تیرے واسطے محفوظ رکھی تھی۔اس کی ابتدا تجھ پر ہوئی ہے اور انجام اس کا مہدی موعود علیہ الصلوۃ السلام پر ہو گا۔(رسالہ مے خانه در صفحه ۲۶ مطبوعہ جدید برقی پریس دہلی مصنفہ خواجہ سید ناصر نذیر صاحب فراق دہلوی) حضرت میر محمد اسحاق صاحب کو اس نعمت کا ابتداء بھی حاصل ہوا اور حضرت امام مہدی علیہ السلام والا حصہ بھی ملا تھا مگر اس عظمت اور بزرگی کے باوجود آپ پورے زور اور پوری قوت بیا نیہ سے نسلی تفاخر کے خلاف وعظ فرمایا کرتے تھے اور قومیت ونسل کے مروجہ امتیاز کے ایسے دشمن تھے کہ میں نے عمر بھر کسی شخص کو اس جرات سے اس ہمہ گیر مرض کے خلاف جہاد کرتے نہیں دیکھا۔سب لوگ جانتے ہیں کہ ہم آدم کی اولاد ہیں اور انسانیت میں یکساں اور مساوی ہیں مگر احترام آدمیت کا جو جذ بہ حضرت میر صاحب کے روئیں روئیں سے عیاں تھا بالخصوص جب آپ درس دیتے تھے اور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا ایسی حدیث آپ کا موضوع گفتگو ہوئی تھی۔آج بھی آپ کی زبر دست تقاریر کانوں میں گونجتی ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔اللهم آمین۔الفرقان ستمبر اکتوبر ۱۹۶۱ء صفحه ۲۰ تا ۲۳) احمدیت کے دامن میں جو انمول موتی مولا کریم حضرت علامہ حافظ روشن علی صاحب نے محض اپنے فضل سے ڈالے ہیں ان میں حضرت علامہ حافظ روشن علی صاحب کا نام قیامت تک زندہ رہنے والا ہے۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے اپنی تعلیم کا آخری مرحلہ حضرت حافظ صاحب کے ذریعہ ہی طے کیا۔حضرت