حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 730 of 923

حیاتِ خالد — Page 730

حیات خالد 719 گلدسته سیرت قتبحر عالم تھے۔عربی زبان روانی سے بولتے تھے۔اور اردو پر پورا پورا عبور تھا۔آپ کی تقریر حشووز وائد سے پاک ہوتی تھی جو بغیر نظر ثانی کے ضبط تحریر میں لا کر شائع کی جاسکتی تھی۔۱۹۶۵ء کی جنگ پاک و بھارت میں چونڈہ کے محاذ پر داد شجاعت دینے والے اور فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد زندگی وقف کر کے خدمات دینیہ انجام دینے والے محترم میجر (ریٹائرڈ) حمید احمد صاحب کلیم مرحوم سابق ناظم جائیدا د صدرانجمن احمد یہ لکھتے ہیں :- وو حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری مرحوم کا شمار جماعت احمدیہ کے چوٹی کے علماء میں ہوتا ہے، ہر وہ احمدی جو جماعت احمدیہ کے جلسہ سالانہ میں یا جماعت کے اہم علاقائی جلسوں میں شامل ہوتا رہا ہے۔حضرت مولانا موصوف کے علمی لیکچروں سے بے حد متاثر ہوئے بغیر نہیں رہا۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہرا ہم جماعتی جلسہ میں آپ کی موجودگی اور شرکت سے قدرتی طور پر بے حد خوشی و مسرت کا اظہار کیا جاتا تھا اور آپ کی عدم موجودگی کی صورت میں بہت زیادہ کمی محسوس ہوتی۔جلسہ سالانہ میں شمولیت کرنے والے احباب پوری کوشش کرتے تھے کہ حضرت مولانا کی تقریر ضرور سنی جائے۔ان کی ہر تقریر کے دوران جلسہ گاہ بہت پر رونق ہوا کرتی تھی۔ان کی ہر تقریر دلائل سے بھر پور اور دلوں کو موہ لینے والی ہوتی تھی۔آپ نہایت عالمانہ انداز میں متعلقہ مضمون کی جملہ شقیں وقت کے لحاظ سے تفصیل سے بیان فرماتے اور آخر پر نہایت پیارے طریق پر اپنے مضمون کا خلاصہ بیان فرماتے اور مقررہ وقت کے اندر ہی نہایت احسن طریق پر اپنے مضمون کو ختم فرماتے۔محترم مولانا روشن دین احمد صاحب واقف زندگی مرحوم نے حضرت مولانا کے فن خطابت کا ایک حسین تجزیہ سپر قلم کیا ہے۔آپ لکھتے ہیں :- آپ ( حضرت مولانا ابوالعطاء) کو ایسی طرز خطابت کا ملکہ اللہ تعالیٰ نے عطا فر مایا تھا جو سامعین کے لئے ہمیشہ دلچسپی کا باعث ثابت ہوا کرتا تھا۔آپ کی گفتگو میں ایک جدت ہوا کرتی تھی۔آپ کی تقریر کی طر ز صرف یہی نہیں ہوا کرتی تھی کہ آپ بار بار ایک قسم کے فقرات کو دوہراتے رہیں بلکہ میں نے کئی دفعہ دیکھا اور اس کا تجربہ کیا کہ آپ کی تقاریر کے الفاظ اگر چہ مختصر ہوا کرتے تھے مگر آپ ان کو نیا روپ دے کر اور نئے پیرا یہ میں پیش کرتے تھے۔اس سے بات جلد سمجھ میں آ جاتی اور چونکہ بات کئی انداز سے بیان کی جاتی تھی اس لئے تقریر میں زیر بحث مسئلہ کی تہ تک پہنچنا بہت آسان ہو جا تا تھا۔اگر چہ آپ کی تقاریر کا موضوع عالمانہ ہوا کرتا تھا مگر چونکہ آپ روانی سے خطاب کرنے کے