حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 721 of 923

حیاتِ خالد — Page 721

حیات خالد 710 گلدستۂ سیرت 0 محترم مولانا محمد صدیق صاحب شاہد گورداسپوری لکھتے ہیں :- رمضان المبارک میں ہر سال جب تک آپ زندہ رہے ہمیشہ درس قرآن کریم دیتے رہے اور قرآن مجید کے معارف نہایت دل نشین انداز میں بیان فرماتے۔0 محترم چوھدری شبیر احمد صاحب وکیل المال اول رقم فرماتے ہیں :- حضرت مولانا سے کسب فیض کا موقعہ مجھے اس طرح حاصل ہوا کہ خاکسار کو میٹرک کے بعد سیالکوٹ میں چار سال کالج کی تعلیم کے دوران تعطیلات موسم گرما میں قادیان جانے کا موقع ملتارہتا۔حضرت مولانا صاحب بجائے تعطیلات گرما میں آرام کرنے کے مسجد اقصیٰ میں عربی کی عارضی کلاس لگا لیا کرتے تھے جس سے خاکسار نے بھی دو مرتبہ استفادہ کیا۔آپ بڑی لگن اور شفقت سے پڑھاتے اور اپنی شیرینی گفتار اور خدا داد صلاحیتوں سے ہر سبق کو دل میں اتار دیتے تھے۔آپ کی عربی زبان کی تدریس و تعلیم میں لگن دراصل آپ کے عشق قرآن کا طبعی تقاضا تھی۔قرآن مجید کی تعلیم کو عام کرنے کا ایک اہم تقاضا عربی زبان کی اشاعت ہے۔چنانچہ حضرت مولانا قرآن مجید سے غیر معمولی محبت کے باعث عربی زبان کی ترویج میں مصروف رہتے تھے۔اس پاکیزہ غرض کے حصول کے لئے آپ نے رسالہ الفرقان جاری فرمایا اور کون نہیں جانتا کہ الفرقان کی تیاری، طباعت واشاعت اور مقبولیت سب کچھ حضرت مولانا کے علم و فضل ہمت و استقامت اور ایثار و قربانی کا آئینہ دار تھا۔عاجز نے آپ کی رحلت کے بعد ایک مرتبہ آپ کو خواب میں دیکھا تو وہاں بھی آپ قرآن مجید کا درس دے رہے تھے۔آپ کے درس قرآن کی خاص بات یہ ہوتی تھی کہ آپ قرآنی مطالب سے ہی وقت و حالات کے ہر پہلو پر رہنمائی فرما دیا کرتے تھے۔ایک مرتبہ پشاور میں ( غالباً یہ ۱۹۷۵ء کی بات ہے۔یعنی ۱۹۷۴ء کے پر آشوب دور کے فورا بعد ) آپ انصار اللہ کے اجتماع میں شامل ہوئے۔ملکی حالات کسی تقریر کے متحمل نہ ہو سکتے تھے لیکن آپ نے درس قرآن میں ہی سب باتیں بیان کر دیں۔مكرم عطاء الرحمن طاہر صاحب رقم فرماتے ہیں :- آپ دن کے اوقات میں بھی کثرت سے تلاوت قرآن پاک فرمایا کرتے تھے اور رمضان المبارک میں تو اس میں زیادہ زور آ جاتا تھا۔درس القرآن کے لئے جب آپ کو کہا جاتا تو بغیر تیاری