حیاتِ خالد — Page 720
حیات خالد 709 گلدستۂ سیرت حضرت مولانا جس طرح زندگی بھر خلفاء کے قریب رہے اسی طرح بہشتی مقبرہ میں بھی قریب تر ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اسی طرح آسمان پر بھی ان کو خلفاء اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قرب میں رکھے۔جب حضرت خلیفہ اسیح الثالث مسند امامت پر رونق افروز ہوئے تو ابتداء میں آپ کو نائب ناظر اصلاح و ارشاد تعلیم القرآن و وقف عارضی مقرر فرمایا۔آپ کا دفتر اپنے قرب میں یعنی پرانے قصر خلافت کی سیڑھیوں کے ساتھ ہی رکھا۔یہ جگہ احاطہ دفتر پرائیوٹ سیکرٹری میں تھی۔آپ کو رہائش بھی احاطہ بیت المبارک ہی میں دی گئی۔یعنی قصر خلافت کے بالکل قریب حالانکہ آپ کا رہائشی مکان ربوہ کے محلہ دار الرحمت وسطی میں موجود تھا۔اللہ تعالیٰ نے امام وقت کے دل میں آپ کی بے حد محبت اور عزت رکھی تھی۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے ساری عمر رمضان المبارک میں درس عشق قرآن قرآن دیا۔قرآن کے بارے میں مضامین لکھے قرآنی معارف پر تقاریر کیں۔قرآن کے ساتھ آپ کا عشق آپ کی ساری زندگی پر محیط ہے۔مکرم نذیر احمد صاحب سندھو بورے والا لکھتے ہیں :- جناب مولانا کی یاد کو یہ خاکسار ایک واقعہ کے حوالہ سے بھلا نہیں سکتا۔واقعہ یوں ہے کہ عرصہ ہوا خاکسار اور خاکسار کی اہلیہ نے ایک ساتھ وصیتیں کیں۔خاکسار کی وصیت منظور ہوگئی اور وصیت نمبر ۲ ۱۹۴۵ دیا گیا۔خاکسار کی اہلیہ کی وصیت کے بارے میں محترم مولانا نے بحیثیت صدر مجلس کار پرواز خاکسار کو لکھا کہ قواعد مجلس کار پرواز کے تحت آپ اپنی اہلیہ کی وصیت کی ادائیگی کی ذمہ داری قبول کریں۔خاکسار نے جواباً عرض کیا کہ ذمہ داری قبول نہ کرنے کی معذرت چاہتا ہوں۔قرآن کریم کا یہ فرمان لا تزرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخرى روک ہے۔خاکسار کے نزدیک محترم مولانا کے لئے بظاہر یہ ایک مشکل صورت حال تھی مگر جب اہلیہ کی وصیت کی منظوری کی اطلاع ملی تو خاکسار کو خوشی ہوئی کہ مولانا نے قرآن کو قواعد پر مقدم کر دکھایا۔یقیناً آپ آسمان پر بھی مقدم رکھے جائیں گے۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کا ارشاد ہے کہ جو لوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے ان کو آسمان پر مقدم رکھا جائے گا۔(کشتی نوح) میرے نزدیک یہ واقعہ مولانا کے عشق قرآن کی خوب عکاسی کرتا ہے۔