حیاتِ خالد — Page 67
حیات خالد 71 اساتذہ کرام دینے کا ارادہ کیا۔حضرت مولوی صاحب موصوف ان دنوں تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے اور دسویں جماعت کو انگریزی پڑھایا کرتے تھے کچھ دنوں کیلئے میں بھی بطور سامع اس کلاس میں شامل ہو گیا۔میٹرک کا امتحان دیا اور کامیاب ہوا۔پھر ایف اے کے امتحان میں بھی کامیابی نصیب ہوئی۔الحمد للہ مقصد یہ تھا کہ انگریزی کے ذریعہ بھی خدمت دین کا کچھ موقعہ مل سکے۔اس دوران حضرت مولوی صاحب کی شفقت کا ایک نمونہ عرض کرتا ہوں۔ایک دفعہ میں جب کلاس میں حاضر ہوا تو حضرت مولوی صاحب موسم سرما کی وجہ سے باہر دھوپ میں پڑھا رہے تھے۔آپ کرسی پر تشریف فرما تھے اور طلبہ گھاس پر زمین پر بیٹھے تھے میں بھی ایک طرف چپکے سے کلاس میں شامل ہو گیا۔میں نے دیکھا کہ حضرت مولوی صاحب جھٹ کرسی سے زمین پر بیٹھ گئے اور سبق شروع کر دیا اور اصرار کے باوجود آپ کرسی پر نہ بیٹھے۔دوسرے روز سے پھر دو کرسیاں ہوتی تھیں اور حضرت مولوی صاحب مجھے اپنے پاس بٹھاتے تھے۔میں خوب جانتا تھا کہ حضرت مولوی صاحب محض میرے مبلغ سلسلہ ہونے کی وجہ سے یہ سلوک کر رہے ہیں۔وہ ایک رنگ میں طلبہ کو یہ سبق بھی دینا چاہتے تھے کہ ہمیں سلسلہ کے خادموں سے کس طرح پیش آنا چاہئے ورنہ من آنم کہ من دانم۔حضرت مولوی صاحب کا طریق تدریس نہایت عمدہ اور موثر ہوتا تھا۔بات عام فہم ہوتی تھی۔اور فور ذہن نشین ہو جاتی تھی۔جَزَاهُ اللهُ عَنَّا اَحْسَنَ الْجَزَاءِ (الفرقان مئی ۱۹۷۰ء صفه ۴۴ - ۴۵) حضرت مولوی محمد جی صاحب ہزاروی کا ذکر خیر حضرت مولوی محمد جی صاحب ہزاروی کرتے ہوئے حضرت مولانا نے تحریر فرمایا:- حضرت مولوی محمد جی صاحب فاضل ہزاروی کی قریباً ساری زندگی تعلیم و تدریس میں گزری ہے۔ان کے صد ہا شاگرد ہوں گے۔مجھے بھی یہ سعادت حاصل ہے کہ میں نے مدرسہ احمدیہ کے ابتدائی دو تین سالوں میں ادب اور قواعد صرف و نحو ان سے پڑھے تھے۔قریبا نصف صدی گزری ہے کہ میں نے ان سے شرف تلمذ حاصل کیا تھا۔مگر آج تک ان کے اعلیٰ کردار اور اپنے فرض کو بے لوث طور پر ادا کرنے کا گہرا اثر طبیعت پر ہے۔میرا تو طریق ہے کہ اپنے زندہ اساتذہ کی درازی عمر اور وفات یافتہ اساتذہ کی بلندی درجات کیلئے ہمیشہ دعا کرتا ہوں اور اسے اپنے اساتذہ کے احسان کا ادنی بدلہ تصور کرتا ہوں اور اسے اپنا فرض ا الفضل ۱۴ جولائی ۱۹۶۷ء صفحہ ۴ کالم نمبر ۳ ۴ ) جانتا ہوں۔