حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 656 of 923

حیاتِ خالد — Page 656

حیات خالد 651 آخری ایام کی حد ختم کر دی۔خدا نے آپ کو خاص قوت بیان سے نوازا تھا۔دشمن کیلئے بے شک "خالد" تھے مگر اپنوں کے ساتھ محبت اور شفقت کا پہلو نمایاں تھا۔0 مکرم منظور احمد شاد صاحب سابق نائب امیر جماعت کراچی نے لکھا کہ اس وقت بھی میرے کانوں میں حضرت مولانا کے یہ الفاظ گونج رہے ہیں کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔اس اعتبار سے آپ کی شخصیت نکھر کر سامنے آتی ہے جب ہم ان کی اولاد کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو آگے سے آگے لے جاتے ہوئے دیکھتے ہیں۔صرف اسی پر بس نہیں بلکہ دنیا بھر میں آپ کے ہزاروں شاگر د خدمت دین میں مصروف ہیں وہ بھی اولاد سے کم نہیں اور یقیناً اس درخت کے شیریں پھل ہیں۔0 مکرم خواجہ محمد امین صاحب نے مغلپورہ لاہور سے لکھا کہ ان کی ایک بھانجی حضرت مولانا کی علمیت اور خدمت احمدیت کی وجہ سے ان کی بڑی عقیدت مند تھیں۔چنانچہ عزیزہ نے آپ کی رحلت کے سانحہ پر بڑا دکھ اور رنج محسوس کیا اور ایک ہفتہ بعد ہارٹ اٹیک سے وفات پا گئیں۔0 کوئٹہ سے سلسلہ کے قدیمی اور مخلص خادم جناب فیض الحق خان صاحب نے لکھا کہ حضرت مولانا ایک بین الاقوامی شخصیت تھے اور ان کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔ہر ایک یہی سمجھتا تھا کہ صرف اس کے ساتھ ہی آپ کے محبت کے تعلقات ہیں۔O کراچی سے مکرم مسعود احمد صاحب خورشید نے لکھا کہ حضرت مولانا کی خوش اخلاقی اور اوصاف حمیدہ ہر شخص کو اپنا گرویدہ بنا لیتے۔آپ کی دینی خدمات رہتی دنیا تک تاریخ میں محفوظ رہیں گی۔آپ بلا شبہ آسمان احمدیت کے ایک درخشندہ ستارے تھے۔0 حضرت مولانا کے ایک شاگرد مولانا محمد عمر صاحب (سندھی) بی۔اے شاہد نے لاڑ کا نہ سندھ سے اپنے دلی جذبات کا یوں اظہار کیا کہ حضرت مولانا کی ہر شاگرد سے محبت اور شفقت کا رنگ نرالا تھا۔۱۹۵۵ء میں خاکسار حضرت مولانا کے شاگرد کے طور پر جامعة المبشرین میں داخل ہوا اور استاذی المکرم کی تعلیم و تربیت سے خاص طور پر استفادہ کیا۔جہاں آپ کو تعلیم دینے میں کمال حاصل تھا وہاں تربیت کا طریق نہایت دلر ہا تھا۔آپ عمدہ مثالیں دے کر ہماری تربیت فرماتے جس کے طفیل عاجز کو خدمت سلسلہ کی سعادت نصیب ہوئی۔عام معاملات اور میدان عمل میں آپ نے ہماری تربیت اور رہنمائی فرمائی۔مزید لکھا کہ آپ اس اظہار سے رک نہیں سکتے کہ حضرت مولانا آپ