حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 626 of 923

حیاتِ خالد — Page 626

حیات خالد 621 آخری ایام اس ارشاد میں ذکر نہیں ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ جو روایت کی تاریخ ہے اس سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ اس وقت آپ کی عمر قریباً دس سال کی تھی۔یہ ۱۹۰۷ ء کی روایت ہے کہ آپ نے کہا کہ میری یہ بچی بہت خواہیں دیکھتی ہے اور کثرت سے وہ بچی نکلتی ہیں۔یہ بھی رحمانیت کا جلوہ ہے اور میں شاہد ہوں، ان کی۔زندگی کو بڑے قریب سے دیکھنے والا۔اور ہر وہ شخص شاہد ہے جس کا واسطہ ان سے پڑا کہ رحمن خدا سے۔پڑا انہوں نے کبھی منہ نہیں موڑا یعنی اپنے آپ کو کبھی کچھ نہیں سمجھا جو کچھ پایا یہی سمجھا کہ خدا کا فضل تھا کہ پایا نہ کہ میری کسی خوبی کی وجہ سے مجھے ملا۔اس نمونے پر ، اس اسوہ پر ، جو چھوٹے چھوٹے نمونے ہر زمانہ میں پیدا ہوتے ہیں اگر ہم قائم ہو جا ئیں تو تبھی ہمیں ہدایت ملتی ہے اور بڑا اور عظیم نمونہ تو ایک بلی ہے یعنی محمد رسول اللہ علیہ کی زندگی کا۔کوئی شخص یہ کہہ کر ہدایت نہیں پا سکتا کہ میں رحیمیت کا قائل ہوں۔وہ بھی رحمت کا ایک جلوہ ہے لیکن اس کے پیچھے بھی رحمانیت ہی جلوہ گر ہورہی ہے۔یا یہ نہیں کہ سکتا کہ میں یہ کرتا ہوں یا وہ کرتا ہوں اس واسطے مجھے کچھ مل گیا ، یہ بات غلط ہے۔اللہ تعالی ہمیں کبر اور غرور سے محفوظ رکھے۔اگر آپ نے ہدایت پر قائم رہنا ہے تو قرآن کریم کہتا ہے کہ خدائے رحمن سے منہ نہ موڑ واگر خدانخواستہ کسی نے خدائے رحمن سے منہ موڑ لیا تو پھر ہلاکت ہے، پھر شیطان اس کی روح پر قابض ہو جاتا ہے، پھر وہ شیطان کے تصرف میں آجاتا ہے، پھر وہ شیطان کی رعایا بن جاتا ہے۔بچپن میں کہانیاں سنا کرتے تھے کہ ایک شخص نے اپنی روح دنیوی دولتوں اور عزتوں کی خاطر شیطان کے پاس بیچ دی۔وہ تو ایک کہانی تھی مگر اس وقت بڑی سبق آموز کہانیاں ہوا کرتی تھیں۔پس جانے والوں کے لئے دعائیں کریں اور دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہمیں بھی اپنی رحمتوں سے نوازتا رہے اور رحمانیت کے جلوے ہمیں دکھائے اور ہمارے دل میں سوائے رحمن خدا کے اور کسی کا پیار نہ ہو یعنی اپنے نفس کا یا اس کے کسی پہلو کا کوئی تصور ہمارے دل میں نہ ہو صرف رحمن خدا کا جو بے عمل فیضان کرنے اور بلا استحقاق دینے والا ہے ہمارے دل میں پیار ہو۔جہاں تک خدا تعالیٰ کا تعلق ہے ہمارے سارے اعمال مل کر بھی کوئی عمل بنتا ہے؟ اس کے مقابلے میں ، اس کی عظمت کے مقابلے میں اور اس کے جلال کے مقابلے میں اور اس کی کبریائی کے مقابلے میں ہمارے اعمال کوئی چیز نہیں اور اس کو ان کی ضرورت نہیں۔وہ غنی ہے۔پس خدا کرے کہ ہمیں یہ توفیق ملے کہ جانے والوں کی روح کو ثواب پہنچانے کے لئے ہم ان کے لئے دعائیں کرنے والے ہوں اور دنیا کی بھلائی کے لئے اور اپنے لئے یہ